Bharat Express DD Free Dish

Adani Foundation Chairperson delivers keynote address: ڈاکٹر پریتی اڈانی کا سماجی اثر بڑھانے کیلئے مربوط تعاون پلیٹ فارم قائم کرنے پر زور، اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن کا ہانگ کانگ میں منعقدہ اے وی پی این گلوبل کانفرنس 2025 میں کلیدی خطاب

اے وی پی این کی سی ای او نینا سُبروال بترا نے کہا: ’’ڈاکٹر پریتی اڈانی کا خطاب جرات مندانہ عمل کی ایک طاقتور اپیل تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں غیر یقینی حالات میں بھی اقدام کرنا ہوگا اور ایشیا کے لیے ایک پائیدار اور مساوی مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے حل میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔

اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی۔

ہانگ کانگ میں منعقدہ اے وی پی این گلوبل کانفرنس 2025 میں اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی نے مخیر حضرات، کاروباری اداروں اور تبدیلی کے علمبرداروں سے ایک پراثر اپیل کی: ’’صرف عطیہ نہ دیں، مل کر تعمیر کریں۔‘‘  اپنے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر اڈانی نے زور دیا کہ سماجی ترقی کی اگلی بڑی جست تعاون اور ہر فلاحی ادارے، این جی او اور شراکت دار کو ایک پلیٹ فارم پر لانے پر منحصر ہے، جہاں کوششیں ہم آہنگ ہوں، سیکھنے کا تبادلہ ہو اور اثرات کئی گنا بڑھیں۔ انہوں نے یاد دلایا کہ فلاحی کام کی اصل طاقت الگ الگ شراکت میں نہیں بلکہ مربوط عمل میں ہے۔ ’’ہمیں صرف عطیہ دہندگان نہیں بلکہ شریک تخلیق کار بننا ہوگا۔ حقیقی تبدیلی تب آتی ہے جب ہم شراکت دار بن کر کام کرتے ہیں، وسائل کو اکٹھا کرتے ہیں اور علیحدگی کی دیواریں توڑتے ہیں۔‘‘

انسانی کہانیوں پر توجہ

ڈاکٹر پریتی اڈانی نے ایک ایسے تعاون پلیٹ فارم کا مطالبہ کیا جہاں دنیا بھر کے فلاحی ادارے اعداد و شمار سے آگے بڑھ کر عزت، لچک اور تبدیلی کی انسانی کہانیوں پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ انہوں نے کہا: ’’اثر کبھی بھی صرف اعداد کا معاملہ نہیں ہوتا، بلکہ ان کہانیوں کا ہوتا ہے جو ان اعداد کے پیچھے چھپی ہیں — امید، تبدیلی اور بااختیاری کی کہانیاں۔‘‘

تصویر (بائیں سے دائیں) دھن ڈاور – پروگرام کی سربراہ اور ڈپٹی سی ای او، اے وی پی این، ڈاکٹر ابھیشیک لکھ ٹکیا-سی ای او، اڈانی فاؤنڈیشن، ڈاکٹر پریتی اڈانی-صدر، اڈانی فاؤنڈیشن، نینا سُبروال بترا – سی ای او اے وی پی این، پٹسین لو-مارکیٹ ہیڈ اینڈ ڈپٹی سی ای او اے وی پی این

اے وی پی این کی قیادت کا ردعمل

اے وی پی این کی سی ای او نینا سُبروال بترا نے کہا: ’’ڈاکٹر پریتی اڈانی کا خطاب جرات مندانہ عمل کی ایک طاقتور اپیل تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں غیر یقینی حالات میں بھی اقدام کرنا ہوگا اور ایشیا کے لیے ایک پائیدار اور مساوی مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے حل میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔

تعاون کے لیے تین کلیدی نکات

ڈاکٹر پریتی اڈانی نے اس مشترکہ تحریک کے لیے تین ناگزیر نکات پیش کیے: شریک تخلیق (Co-creation): ہر شریک بطور عطیہ دہندہ نہیں بلکہ پائیدار تبدیلی کے تخلیق کار کے طور پر شامل ہو۔ ملٹی پلائر، محض استفادہ نہیں: اصل پیمانہ یہ ہے کہ ہم اپنے مستفیدین کو تبدیلی کے عوامل کے طور پر کس طرح آگے بڑھاتے ہیں۔ مہارت کو اقدار سے جوڑنا: اقدار کے بغیر مہارت ایسی عمارت ہے جس کی بنیاد نہ ہو۔ انہیں یکجا کریں اور آپ نسلوں کی تعمیر کریں گے۔

وعدے کا لمحہ، تالیوں کا نہیں

ڈاکٹر اڈانی نے کہا: ’’یہ تالی بجانے کا لمحہ نہیں، یہ عہد کرنے کا وقت ہے۔ ہمیں وہ نسل بننا ہوگا جو قحط میں بیج بوئے، بارش سے پہلے یقین رکھے اور سب کے لیے عزت و مواقع کی فصل کاٹے۔‘‘ خطاب کے اختتام پر انہوں نے حاضرین سے اپیل کی کہ وہ علامتی اقدامات سے آگے بڑھ کر فعال طور پر تعاون کریں، ایک دوسرے سے سیکھیں، بہترین طریقے بانٹیں اور ایک دوسرے کو بڑے مقاصد کے حصول کے لیے متحرک کریں۔

اڈانی فاؤنڈیشن

1996 سے اڈانی گروپ کا سماجی بہبود اور ترقی کا بازو، اڈانی فاؤنڈیشن، بھارت بھر میں پائیدار نتائج کے لیے حکمت عملی پر مبنی سماجی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ یہ تعلیم، صحت و غذائیت، پائیدار روزگار، ماحولیاتی اقدامات اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ جیسے اہم شعبوں میں بچوں، خواتین، نوجوانوں اور پسماندہ طبقات کی زندگیوں کو بااختیار بنا رہا ہے۔ فاؤنڈیشن کی حکمت عملیاں قومی ترجیحات اور اقوام متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔ اس وقت اڈانی فاؤنڈیشن 22 ریاستوں کے 7,071 دیہات میں سرگرم عمل ہے اور 9.6 ملین افراد کی زندگیوں پر مثبت اثر ڈال رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read