Bharat Express DD Free Dish

social impact

اڈانی فاؤنڈیشن کی چیئرپرسن ڈاکٹر پریتی اڈانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ گوتم اڈانی کی 64ویں سالگرہ پر ’’سیوا ہی سادھنا ہے‘‘ کے نظریے کو اڈانی پریوار نے ایک عظیم خون عطیہ مہم کے ذریعے حقیقت کا روپ دیا۔

پریتی اڈانی نے اعلان کیا کہ اگلے مرحلے میں مہاراشٹر کی ایک لاکھ خواتین کو اس پہل سے جوڑا جائے گا۔ اس کے بعد آنے والے برسوں میں اسے پورے ملک تک پھیلا کر 10 لاکھ خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنانے کا ہدف حاصل کیا جائے گا۔

اس نئی تحریک کا مقصد خواتین کو حوصلہ دینا اور انہیں اپنی اندرونی طاقت اور قیادت کی صلاحیت کو پہچاننے میں مدد فراہم کرنا ہے۔ اس کے ذریعے خواتین کو اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانے اور معاشرے میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی جائے گی۔

چیئرمین گوتم اڈانی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ آج کی جدوجہد غیر ملکی اقتدار سے آزادی کے لیے نہیں بلکہ ٹیکنالوجی اور سماجی اختراع میں خودکفالت کے لیے ہے۔ انہوں نے اسے بھارت کی ’’دوسری جنگِ آزادی‘‘ قرار دیا جس کا مقصد ہر طبقے کو بااختیار بنانا اور جمہوریت کو مضبوط کرنا ہے۔

اے وی پی این کی سی ای او نینا سُبروال بترا نے کہا: ’’ڈاکٹر پریتی اڈانی کا خطاب جرات مندانہ عمل کی ایک طاقتور اپیل تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں غیر یقینی حالات میں بھی اقدام کرنا ہوگا اور ایشیا کے لیے ایک پائیدار اور مساوی مستقبل کی بنیاد رکھنے کے لیے حل میں سرمایہ کاری کرنی ہوگی۔

وزیراعظم مودی نے 28 اگست 2014 کو جن دھن اسکیم کا آغاز کیا، جو دنیا کی سب سے بڑی مالی شمولیت کی پہل ثابت ہوئی۔ اس اسکیم کے ذریعے غریب اور پسماندہ لوگوں کی بینکنگ سہولیات تک رسائی یقینی ہوئی۔

ارہان باگتی ان دنوں ہارورڈ یونیورسٹی میں پبلک پالیسی میں ماسٹرز کر رہے ہیں اور اپنے علمی پس منظر کے ساتھ ساتھ عملی میدان میں بھی غیرمعمولی سرگرم ہیں۔

یہ اقدامات نہ صرف تعلیم کو عام افراد کے لیے قابلِ رسائی بناتے ہیں بلکہ طلبہ کو بدلتے ہوئے عالمی مسائل سے نمٹنے کے لیے بھی تیار کرتے ہیں۔ جیسے جیسے بھارت اپنے تعلیمی اہداف کی سمت بڑھ رہا ہے، NEP 2020 اس سفر کے لیے ایک مضبوط، سائنسی اور مستقبل ساز بنیاد فراہم کر رہا ہے۔

وزیرداخلہ نے کہا کہ بی وی پی بھارت کی ترقی میں مسلسل اہم کردار ادا کرتا رہے گا اور یہ ان لوگوں کے بیچ ایک پُل کا کام کرے گا جو خدمت کرنے کے خواہش مند ہیں اور جنہیں اس کی ضرورت ہے۔