Urdu Conclave 2026

Jan Nisar Akhtar Poetry: سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی….جاں نثار اختر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں

جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔

18 فروری 1914 کو گوالیار کی فضاؤں میں ایک ایسا بچہ پیدا ہوا جس کے لہجے میں بعد میں لفظوں کا جادو اور خیال کی لطافت گھلنے والی تھی۔ یہ تھے جاں نثار اختر — وہ شاعر جن کا نام اردو غزل و نظم کی دنیا میں بھی روشن ہے اور فلمی نغمہ نگاری میں بھی۔ ان کے والد مظفر خیرآبادی اور تایا بسمل خیرآبادی دونوں ہی نامور شعراء تھے، گویا شاعری انہیں ورثے میں ملی۔

سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی

ورنہ یہ فقط آگ بجھانے کے لیے ہے

جاں نثار اختر

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے آنرز اور ایم اے کرنے کے بعد، جاں نثار اختر نے گوالیار کے وکٹوریہ کالج میں تدریس شروع کی۔ 1943 میں ان کی شادی ان کے ہم عصر شاعر اسرارالحق مجاز کی بہن، صفیہ سراج الحق سے ہوئی۔ صفیہ اور جاں نثار سے دو بیٹے پیدا ہوئےجاوید اختر اور سلمان اختر، جو بعد میں اپنے اپنے میدان میں شہرت کی بلندیاں چھونے لگے۔

آزادی کے بعد وہ بھوپال آ گئے اور حمیدیہ کالج میں اردو و فارسی کے شعبے سنبھالے۔ یہیں سے ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے اور اپنی بلند شخصیت کے باعث تحریک کے صدر بھی منتخب ہوئے۔ مگر تدریس کی دنیا انہیں محدود لگی، اس لیے 1949 میں ممبئی کا رخ کیا۔ یہاں ان کے دو خواب تھے: فلموں کے لیے نغمہ نگاری اور اپنے شعری مجموعوں کی اشاعت۔

ممبئی میں وہ ملک راج آنند، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی جیسے بڑے ناموں کے قریب ہوئے۔ ان کے شعری مجموعے نظرِ تبسم، سلاسل، جاوداں، پچھلے پہر، گھر آنگن اور خاک دل اردو ادب کے قیمتی سرمایہ ہیں۔ خاک دل پر انہیں 1976 میں ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ ملا۔

نغمہ نگاری میں انہوں نے سی رام چندر، اوپی نیر اور خیام جیسے موسیقاروں کے ساتھ کام کیا اور 151 سے زیادہ فلمی گیت لکھے۔ فلم رضیہ سلطان کے گیت ان کی زندگی کے آخری فلمی نغمے ثابت ہوئے۔

1953 میں صفیہ کے انتقال نے انہیں گہرے صدمے میں ڈال دیا۔ بعد میں صفیہ کے خطوط کو حرف آشنا اور زیر لب کے عنوان سے شائع کیا۔ 1956 میں انہوں نے خدیجہ طلعت سے شادی کر لی۔

جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read