Bharat Express DD Free Dish

Urdu Shayari

قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، دہلی اردو اکادمی، انجمن ترقی اردو ہند کے علاوہ شعبہ اردو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے اداروں سے پروفیسر مظفر حنفی کے صاحبزادے انجینئر فیروز مظفر نے توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد کو جو مقام ومرتبہ ملنا چاہئے تھا، وہ نہیں ملا، اس کا ہمیں ملال ہے۔

اردو شاعری کی دنیا کا ایک روشن ستارہ آج ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ اتر پردیش کے رامپور سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ شاعر طاہر فراز کا ممبئی کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے بیمار تھے۔

جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔

مخدوم کو ان کی علمی اور ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1969) سے نوازا گیا۔ لیکن ان کا سب سے بڑا اعزاز عوام کے دلوں میں ان کی محبت اور ان کی شاعری کا وہ انقلابی پیام ہے جو آج بھی نئی نسل کو امید اور حوصلہ بخشتا ہے۔ وہ 25 اگست 1969 کو دہلی میں انتقال کر گئے لیکن اپنے پیچھے ایسی وراثت چھوڑ گئے جو اردو ادب اور عوامی تحریکوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔

غالبؔ اردو شاعری کے صرف رومانوی شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی، مزاح نگار، مصلح اور انسان شناس بھی تھے۔ ان کی شاعری میں کائنات کی وسعت اور دل کی نزاکت ایک ساتھ جلوہ گر ہےاور یہی وہ راز ہے جو انہیں زندہ وجاوید کر گیا۔

داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ اور سہل زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کے شعری آہنگ کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔

میر تقی میر اپنے اشعار کے ذریعے آج بھی زندہ ہیں۔ اردو شاعری کا کوئی معتبر ذکر میر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے وقت کے دکھ، محبت اور انسانی تجربے کو ایسی سچائی سے بیان کیا کہ صدیوں بعد بھی قاری ان کے کلام میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔

 گلزار کو ادب اور فلم دونوں میں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، پدم بھوشن، گریمی اور آسکر ایوارڈ شامل ہیں۔ فلم فیئر ایوارڈز انہیں 21 مرتبہ ملے، جو ان کی طویل اور کامیاب فنی زندگی کا ثبوت ہیں۔ گلزار کی تخلیقات میں ماضی کی یاد، فطرت کی تصویریں اور انسانی رشتوں کی گرہیں سب کچھ ملتا ہے۔ وہ آج بھی لکھ رہے ہیں، گویا ان کا قلم وقت کو روک کر جذبات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتا ہے۔

جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔