ممتازاردو ادیب پروفیسر مظفرحنفی کو کیوں کردیا گیا نظرانداز؟ انجینئر فیروز مظفر نے اردو اداروں سے کیا شکوہ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، این سی پی یو ایل اوراردو اکادمی سے بڑا مطالبہ
قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان، دہلی اردو اکادمی، انجمن ترقی اردو ہند کے علاوہ شعبہ اردو اور جامعہ ملیہ اسلامیہ جیسے اداروں سے پروفیسر مظفر حنفی کے صاحبزادے انجینئر فیروز مظفر نے توجہ دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد کو جو مقام ومرتبہ ملنا چاہئے تھا، وہ نہیں ملا، اس کا ہمیں ملال ہے۔
Famous poet Tahir Faraz passes away: الوداع ’کاشفِ محبت‘: مشہور شاعر طاہر فراز کا ممبئی میں انتقال
اردو شاعری کی دنیا کا ایک روشن ستارہ آج ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گیا۔ اتر پردیش کے رامپور سے تعلق رکھنے والے عالمی شہرت یافتہ شاعر طاہر فراز کا ممبئی کے ایک اسپتال میں انتقال ہو گیا۔ وہ گزشتہ کچھ عرصے سے بیمار تھے۔
Jigar Moradabadi Poetry: اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے…..جگرمراد آبادی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
Jan Nisar Akhtar Poetry: سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی….جاں نثار اختر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔
Makhdoom Mohiuddin Poetry: آپ کی یاد آتی رہی رات بھر….مخدوم محی الدینؔ کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
مخدوم کو ان کی علمی اور ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1969) سے نوازا گیا۔ لیکن ان کا سب سے بڑا اعزاز عوام کے دلوں میں ان کی محبت اور ان کی شاعری کا وہ انقلابی پیام ہے جو آج بھی نئی نسل کو امید اور حوصلہ بخشتا ہے۔ وہ 25 اگست 1969 کو دہلی میں انتقال کر گئے لیکن اپنے پیچھے ایسی وراثت چھوڑ گئے جو اردو ادب اور عوامی تحریکوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔
Mirza Ghalib Poetry: بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ…. مرزا اسد اللہ خاں غالب کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
غالبؔ اردو شاعری کے صرف رومانوی شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی، مزاح نگار، مصلح اور انسان شناس بھی تھے۔ ان کی شاعری میں کائنات کی وسعت اور دل کی نزاکت ایک ساتھ جلوہ گر ہےاور یہی وہ راز ہے جو انہیں زندہ وجاوید کر گیا۔
Daagh Dehlvi Poetry: ہم بھی کیا زندگی گزار گئے…..داغ دہلوی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ اور سہل زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کے شعری آہنگ کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔
Mir Taqi Mir Poetry: میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی…. میر تقی میر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
میر تقی میر اپنے اشعار کے ذریعے آج بھی زندہ ہیں۔ اردو شاعری کا کوئی معتبر ذکر میر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے وقت کے دکھ، محبت اور انسانی تجربے کو ایسی سچائی سے بیان کیا کہ صدیوں بعد بھی قاری ان کے کلام میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔
Gulzar Poetry: ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے…. گلزار کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
گلزار کو ادب اور فلم دونوں میں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، پدم بھوشن، گریمی اور آسکر ایوارڈ شامل ہیں۔ فلم فیئر ایوارڈز انہیں 21 مرتبہ ملے، جو ان کی طویل اور کامیاب فنی زندگی کا ثبوت ہیں۔ گلزار کی تخلیقات میں ماضی کی یاد، فطرت کی تصویریں اور انسانی رشتوں کی گرہیں سب کچھ ملتا ہے۔ وہ آج بھی لکھ رہے ہیں، گویا ان کا قلم وقت کو روک کر جذبات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتا ہے۔
Jan Nisar Akhtar Poetry: آنکھیں جو اٹھائے تو محبت کا گماں ہو….جاں نثار اختر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔





