Bharat Express DD Free Dish

Urdu poetry

مرکزی وزیر برائے اقلیتی وپارلیمانی امور کرن رجیجو، مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور سید شاہنواز حسین سمیت کئی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے چیئرمین و ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے کا کلیدی خطاب ہوگا۔

پروفیسر رحمان مصور نے اپنے لہجے کی انفرادیت اور مضامین کی ندرت سے ادبی دنیا میں نمایاں شناخت بنائی ہے۔ غزل کے مباحث میں ان کے تجربات اور احساسات کی ترجمانی کا خوبصورت رنگ ان کی بے پناہ تخلیقیت کا پتہ دیتے ہیں۔

راحت اندوری کا 70 برس کی عمر میں 11 اگست 2020 کو انتقال ہوگیا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اگلے ہی روز ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی، جس سے ادبی اور فلمی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی۔

ریختہ فاؤنڈیشن نے دسویں ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 5، 6 اور7 دسمبر کو دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کے اشتراک سے بانسیرا پارک، نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ ایڈیشن اردو کی لازوال خوب صورتی، اس کے ورثے، شاعری، موسیقی اور فنون کو دنیا بھر کے فن کاروں اور ادب نواز دوستوں کے ساتھ ایک عظیم خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ اس سال جشنِ ریختہ میں 300 سے زائد فنکار شامل ہوں گے اور35 سے زیادہ سیشن منعقد کئے جائیں گے۔

سکریٹری محکمہ فن، ثقافت و السنہ حکومت دہلی ڈاکٹر رشمی سنگھ نے کہا ’’اردو اکادمی کے زیر اہتمام شاعرات کے اس مشاعرے میں آکر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ تمام شاعرات نے بہت خوبصورت انداز میں اپنا کلام پیش کیا، یہاں ہمیں دل کو مسحور کردینے والی شاعری سننے کا موقع ملا جس پر ہمیں فخر محسوس کرنا چاہئے۔‘‘

جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔

جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔

مخدوم کو ان کی علمی اور ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1969) سے نوازا گیا۔ لیکن ان کا سب سے بڑا اعزاز عوام کے دلوں میں ان کی محبت اور ان کی شاعری کا وہ انقلابی پیام ہے جو آج بھی نئی نسل کو امید اور حوصلہ بخشتا ہے۔ وہ 25 اگست 1969 کو دہلی میں انتقال کر گئے لیکن اپنے پیچھے ایسی وراثت چھوڑ گئے جو اردو ادب اور عوامی تحریکوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔

غالبؔ اردو شاعری کے صرف رومانوی شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی، مزاح نگار، مصلح اور انسان شناس بھی تھے۔ ان کی شاعری میں کائنات کی وسعت اور دل کی نزاکت ایک ساتھ جلوہ گر ہےاور یہی وہ راز ہے جو انہیں زندہ وجاوید کر گیا۔

داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ اور سہل زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کے شعری آہنگ کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔