’Bazm-e-Sahafat‘: ’بزم صحافت‘ کے تحت بھارت ایکسپریس اردو کا تیسرا کانکلیو، اردو زبان، صحافت، سیاست اور شعر و ادب کی نامور شخصیات ہوں گی شریک
مرکزی وزیر برائے اقلیتی وپارلیمانی امور کرن رجیجو، مرکزی وزیر گجیندر سنگھ شیخاوت، سابق مرکزی وزیر سلمان خورشید اور سید شاہنواز حسین سمیت کئی اہم شخصیات کی شرکت متوقع ہے۔ بھارت ایکسپریس نیوز نیٹ ورک کے چیئرمین و ایڈیٹر اِن چیف اپیندر رائے کا کلیدی خطاب ہوگا۔
پروفیسر رحمان مصور ’راجندر یادو ہنس غزل‘ اعزاز سے سرفراز، تقریب میں ادبی دنیا کی ممتاز شخصیات کی شرکت
پروفیسر رحمان مصور نے اپنے لہجے کی انفرادیت اور مضامین کی ندرت سے ادبی دنیا میں نمایاں شناخت بنائی ہے۔ غزل کے مباحث میں ان کے تجربات اور احساسات کی ترجمانی کا خوبصورت رنگ ان کی بے پناہ تخلیقیت کا پتہ دیتے ہیں۔
Rahat Indori Death Anniversary: ’’میرے حجرے میں نہیں اور کہیں پر رکھ دو: آسماں لائے ہو، لے آؤ زمیں پر رکھ دو‘‘ یوم وفات پر یادوں میں منفرد لب ولہجے شاعر راحت اندوری
راحت اندوری کا 70 برس کی عمر میں 11 اگست 2020 کو انتقال ہوگیا۔ کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد انہیں اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ اگلے ہی روز ان کے انتقال کی خبر سامنے آئی، جس سے ادبی اور فلمی دنیا میں غم کی لہر دوڑ گئی۔
Jashn-e-Rekhta 2025: جشنِ ریختہ 2025: اردو کے سب سے بڑے ادبی تہوار کے 10 سال مکمل، دنیا کے سب سے بڑے ثقافتی جشن میں بکھرے گا اردو کا رنگ
ریختہ فاؤنڈیشن نے دسویں ایڈیشن کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ 5، 6 اور7 دسمبر کو دہلی ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی اے) کے اشتراک سے بانسیرا پارک، نئی دہلی میں منعقد ہو رہا ہے۔ یہ ایڈیشن اردو کی لازوال خوب صورتی، اس کے ورثے، شاعری، موسیقی اور فنون کو دنیا بھر کے فن کاروں اور ادب نواز دوستوں کے ساتھ ایک عظیم خراجِ عقیدت پیش کرتا ہے۔ اس سال جشنِ ریختہ میں 300 سے زائد فنکار شامل ہوں گے اور35 سے زیادہ سیشن منعقد کئے جائیں گے۔
Rang-e-Sukhan by Delhi Urdu Academy: ’’رنگ سخن‘‘ کے عنوان سے شاعرات کا مشاعرہ اور صوفی محفل کا انعقاد، آج کی نوجوان نسل میں شعر فہمی کا ذوق پیدا کرنا ضروری: ڈاکٹر رشمی سنگھ
سکریٹری محکمہ فن، ثقافت و السنہ حکومت دہلی ڈاکٹر رشمی سنگھ نے کہا ’’اردو اکادمی کے زیر اہتمام شاعرات کے اس مشاعرے میں آکر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ تمام شاعرات نے بہت خوبصورت انداز میں اپنا کلام پیش کیا، یہاں ہمیں دل کو مسحور کردینے والی شاعری سننے کا موقع ملا جس پر ہمیں فخر محسوس کرنا چاہئے۔‘‘
Jigar Moradabadi Poetry: اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے…..جگرمراد آبادی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
Jan Nisar Akhtar Poetry: سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی….جاں نثار اختر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔
Makhdoom Mohiuddin Poetry: آپ کی یاد آتی رہی رات بھر….مخدوم محی الدینؔ کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
مخدوم کو ان کی علمی اور ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1969) سے نوازا گیا۔ لیکن ان کا سب سے بڑا اعزاز عوام کے دلوں میں ان کی محبت اور ان کی شاعری کا وہ انقلابی پیام ہے جو آج بھی نئی نسل کو امید اور حوصلہ بخشتا ہے۔ وہ 25 اگست 1969 کو دہلی میں انتقال کر گئے لیکن اپنے پیچھے ایسی وراثت چھوڑ گئے جو اردو ادب اور عوامی تحریکوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔
Mirza Ghalib Poetry: بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ…. مرزا اسد اللہ خاں غالب کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
غالبؔ اردو شاعری کے صرف رومانوی شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی، مزاح نگار، مصلح اور انسان شناس بھی تھے۔ ان کی شاعری میں کائنات کی وسعت اور دل کی نزاکت ایک ساتھ جلوہ گر ہےاور یہی وہ راز ہے جو انہیں زندہ وجاوید کر گیا۔
Daagh Dehlvi Poetry: ہم بھی کیا زندگی گزار گئے…..داغ دہلوی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ اور سہل زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کے شعری آہنگ کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔





