Jigar Moradabadi Poetry: اک لفظ محبت کا ادنیٰ یہ فسانہ ہے…..جگرمراد آبادی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جگر مراد آبادی کی شاعری آج بھی عشاق اردو کے دلوں میں زندہ ہے اور ان کے اشعار وقت کے ساتھ مزید گہرے معنی اختیار کرتے جا رہے ہیں۔
Jan Nisar Akhtar Poetry: سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی….جاں نثار اختر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
جاں نثار اختر کی شاعری میں رومان کا ایک لطیف اور تہذیبی رنگ نمایاں ہے، لیکن کہیں کہیں ترقی پسند نظریات کی جھلک بھی ملتی ہے۔ وہ جذبات کی نزاکت کو نغمگی میں ڈھالنے کا فن جانتے تھے، چاہے وہ غزل ہو یا فلمی گیت۔ 1976 میں ان کا انتقال ہوا، مگر ان کا شعری سرمایہ آج بھی اردو کے آسمان پر ایک درخشاں ستارے کی طرح چمک رہا ہے۔
Makhdoom Mohiuddin Poetry: آپ کی یاد آتی رہی رات بھر….مخدوم محی الدینؔ کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
مخدوم کو ان کی علمی اور ادبی خدمات پر ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (1969) سے نوازا گیا۔ لیکن ان کا سب سے بڑا اعزاز عوام کے دلوں میں ان کی محبت اور ان کی شاعری کا وہ انقلابی پیام ہے جو آج بھی نئی نسل کو امید اور حوصلہ بخشتا ہے۔ وہ 25 اگست 1969 کو دہلی میں انتقال کر گئے لیکن اپنے پیچھے ایسی وراثت چھوڑ گئے جو اردو ادب اور عوامی تحریکوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ رہے گی۔
Mirza Ghalib Poetry: بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ…. مرزا اسد اللہ خاں غالب کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
غالبؔ اردو شاعری کے صرف رومانوی شاعر نہیں بلکہ ایک فلسفی، مزاح نگار، مصلح اور انسان شناس بھی تھے۔ ان کی شاعری میں کائنات کی وسعت اور دل کی نزاکت ایک ساتھ جلوہ گر ہےاور یہی وہ راز ہے جو انہیں زندہ وجاوید کر گیا۔
Daagh Dehlvi Poetry: ہم بھی کیا زندگی گزار گئے…..داغ دہلوی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ اور سہل زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کے شعری آہنگ کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔
Mir Taqi Mir Poetry: میرے رونے کی حقیقت جس میں تھی…. میر تقی میر کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
میر تقی میر اپنے اشعار کے ذریعے آج بھی زندہ ہیں۔ اردو شاعری کا کوئی معتبر ذکر میر کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے اپنے وقت کے دکھ، محبت اور انسانی تجربے کو ایسی سچائی سے بیان کیا کہ صدیوں بعد بھی قاری ان کے کلام میں اپنا عکس دیکھتا ہے۔
Gulzar Poetry: ہاتھ چھوٹیں بھی تو رشتے نہیں چھوڑا کرتے…. گلزار کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
گلزار کو ادب اور فلم دونوں میں اعلیٰ ترین اعزازات سے نوازا گیا ہے، جن میں دادا صاحب پھالکے ایوارڈ، ساہتیہ اکادمی ایوارڈ، پدم بھوشن، گریمی اور آسکر ایوارڈ شامل ہیں۔ فلم فیئر ایوارڈز انہیں 21 مرتبہ ملے، جو ان کی طویل اور کامیاب فنی زندگی کا ثبوت ہیں۔ گلزار کی تخلیقات میں ماضی کی یاد، فطرت کی تصویریں اور انسانی رشتوں کی گرہیں سب کچھ ملتا ہے۔ وہ آج بھی لکھ رہے ہیں، گویا ان کا قلم وقت کو روک کر جذبات کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کر دیتا ہے۔
Waseem Barelvi Poetry: آسماں اتنی بلندی پہ جو اتراتا ہے…. پروفیسر وسیم بریلوی کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
وسیم بریلوی کا کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے دکھ کو بھی ایسی نرمی اور وقار کے ساتھ بیان کرتے ہیں کہ سننے والے کے دل میں امید کا دیا جل اٹھے۔ ان کے یہاں رومان بھی ہے، مزاحمت بھی اور انسان دوستی کا گہرا شعور بھی۔
Munawwar Rana Poetry: کسی کے زخم پر چاہت سے پٹی کون باندھے گا……منور رانا کا یہ خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
منور رانا نے جب والی آسیؔ سے شرف تلمذ حاصل کیا تو ان کے مشورے سے 1977 میں ایک مرتبہ پھر اپنا تخلص بدلا اور ’’منورؔرانا‘‘ بن گئے۔ اس طرح سید منور علی کو منور علی آتش سے منور علی شاداںؔ اور پھر منور رانا بننے تک پورے نو سال کا عرصہ لگ گیا۔
Asrarul Haq Majaz Poetry: دفن کرسکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو….اسرارالحق مجاز کا ایک خوبصورت شعر ملاحظہ کریں
مجازؔ اردو شاعری کا وہ چراغ ہے جو کم جلا، مگر اپنی روشنی میں سب کو جلتا ہوا دکھائی دیا۔ ان کا کلام اور ان کی شخصیت آج بھی ہمارے جذبات کے ساز پر بجتی ہے،ایک مسلسل دُھن کی طرح، جو وقت کے ساتھ مدھم نہیں پڑتی۔





