دہلی کے سابق وزرائے اعلیٰ آتشی اور اروند کیجریوال۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: دہلی کے سابق وزیراعلیٰ اورعام آدمی پارٹی کے لیڈرآتشی نے گزشتہ سال ای ڈی کے ذریعہ اروند کیجریوال کی گرفتاری کوبہت مشکل دورقراردیا۔ انہوں نے کہا کہ کیجریوال کی اس گرفتاری کے بعد ان کا آخری سانس تک بی جے پی سے لڑنے کا عزم مضبوط ہوا ہے۔منگل کے روزگوا میں ایک خبررساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے، آتشی نے کہا کہ جب مارچ 2024 میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے اہلکاروں نے کیجریوال کومنی لانڈرنگ کیس میں گرفتارکیا، تو وہ بہت بھاری دل کے ساتھ گھرواپس لوٹیں۔ لیکن اس واقعہ نے پارٹی کومزید مضبوط کیا اورپارٹی نے آخری سانس تک بی جے پی کے خلاف لڑنے کا عزم کیا۔
گرفتاری کے بعد لگا سب ختم ہوگیا؟
آتشی سے پوچھا گیا کہ کیا انہیں لگا کہ کیجریوال کی گرفتاری کے بعد سب کچھ ختم ہوگیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں آتشی نے کہا کہ جب اروند کیجریوال کوگرفتارکیا گیا تومجھے یاد ہے کہ میں اس رات گھرپہنچی اور سوچ رہی تھی کہ اب کچھ بھی ہوجائے، ہم اپنی آخری سانس تک بی جے پی کے خلاف لڑیں گے۔
‘یہ صرف ایک فرد پرنہیں بلکہ پریوار کو کرتا ہے متاثر’
عام آدمی پارٹی کی لیڈرآتشی نے کہا کہ ہم دوست ہیں، خاندان ہیں اورساتھی ہیں۔ ہم نے مل کریہ پارٹی بنائی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب ایک کے بعد ایک ہمارے لیڈرجیل گئے تویہ صرف اس شخص کی بات نہیں تھی، جسے گرفتارکیا گیا تھا۔ ہم ان کے گھروالوں کی دیکھ بھال کرتے تھے۔ آتشی نے کہا کہ میں دیکھ سکتی تھی کہ منیش سسودیا کی گرفتاری کے بعد ان کی اہلیہ کی طبیعت خراب ہورہی تھی۔
اگربدعنوانی کرنی ہوتی تو پرانی نوکری نہیں چھوڑتے
عام آدمی پارٹی (اے اے پی) کے سربراہ اروند کیجریوال کی گرفتاری کے بارے میں آتشی نے کہا کہ اگرکجریوال کوبدعنوانی کرنی ہوتی تو وہ انکم ٹیکس کمشنرکی نوکری نہ چھوڑتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیجریوال نے اپنی صحت کوخطرے میں ڈال کربھی خود کوعوامی زندگی کے لیے وقف کردیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان دنوں میں نے سنا ہے کہ آئی آرایس افسران اپنی مرضی سے ریٹائرمنٹ پلان کا آپشن چن رہے ہیں کیونکہ انہوں نے لندن، پیرس میں ہوٹل خریدے ہیں یا پھران کی وہاں کوئی جائیداد ہے۔ حالانکہ انہوں نے یہ بات طنزیہ اندازمیں کہی۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


