داغ دہلوی 25 مئی 1831 کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام نواب مرزا خان ہے اور ادبی نام جس سے وہ جانے پہنچانے جاتے ہیں وہ داغ دہلوی ہے۔ ان کے والد نواب شمس الدین خان تھے۔ والد کے انتقال کے بعد ان کی والدہ نے مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے بیٹے مرزا فخرو سے شادی کی، جس کے نتیجے میں داغ، دہلی کے قلعہ معلی میں پرورش پانے لگے۔ ان کا بچپن شاہی ماحول میں گزرا اور وہیں انہیں علم و ادب کا ذوق وراثت میں ملا۔ انہوں نے مشہور استاد شیخ ابراہیم ذوق سے شاعری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔
ہم بھی کیا زندگی گزار گئے
دل کی بازی لگا کے ہار گئے
داغ دہلویؔ

داغ دہلوی کی شاعری میں سادگی، روانی اور روزمرہ کی زبان نمایاں ہے، یہی خصوصیت انہیں مقبول بناتی ہے۔ ان کی شاعری میں رومانوی جذبات، حسن و عشق اور دل کی کیفیات کو نہایت سلیقے سے بیان کیا گیا ہے۔ وہ غزل، رباعی، مثنوی جیسے اصناف سخن میں مہارت رکھتے ہیں۔ ان کے کلام کی خاص بات یہ ہے کہ وہ نہایت آسان زبان میں گہری بات کہنے کا ہنر رکھتے تھے، یہی وجہ ہے کہ ان کے اشعار عوام و خواص میں یکساں مقبول ہوئے۔ داغ دہلوی نے پانچ دیوان مرتب کیے جن میں کل 1028 غزلیں شامل ہیں۔ ان کے ہزاروں شاگرد تھے، جن میں کئی بڑے شعرا شامل ہیں۔ وہ اردو شاعری میں رومانوی غزل کو نئی جہت دینے والے شاعر مانے جاتے ہیں۔ ان کا کلام آج بھی مشاعروں، نصابی کتابوں اور عوامی مجالس میں سنا اور پڑھا جاتا ہے۔
اپنے آخری ایام میں داغ دہلوی حیدرآباد دکن چلے گئے، جہاں انہیں نظام دکن کا استاد مقرر کیا گیا۔ ان کی زندگی کا آخری حصہ وہیں گزرا۔ 1905ء میں فالج کے سبب ان کا انتقال ہوا۔ داغ دہلوی اردو شاعری کا ایک ایسا درخشاں نام ہیں جنہوں نے سادہ زبان میں گہری باتیں کہہ کر اردو ادب کو ایک نیا رنگ دیا۔ ان کی شاعری نہ صرف ان کے دور میں مقبول تھی بلکہ آج بھی اپنی تازگی اور تاثیر کے ساتھ زندہ ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

