Bharat Express DD Free Dish

Tejaswi Yadav mocks Nitish government: تیجسوی یادو کا نتیش حکومت پر طنز،کہا- ’ڈومیسائل پالیسی ہماری تھی، وژن ان کے پاس ہے ہی نہیں‘

تیجسوی نے کہا کہ ڈومیسائل پالیسی کا مطالبہ پچھلے 20 سال سے اٹھ رہا ہے، لیکن حکومت نے اب جا کر اس پر قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے یہ پالیسی ضروری ہے، جیسا کہ کئی ریاستوں میں اسے پہلے ہی نافذ کیا جاچکا ہے۔

بہار کی این ڈی اے حکومت نے ریاستی اساتذہ کی بھرتی میں ڈومیسائل پالیسی نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر اپوزیشن لیڈر تیجسوی یادو نے سخت تنقید کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ان کی ہی سوچ اور پالیسی کی نقل ہے، جس کا وہ پہلے ہی اعلان کر چکے تھے۔

ہم بولتے ہیں، وہ کرتے ہیں – تیجسوی کا طنز

تیجسوی یادو نے طنز کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ ہماری حکومت آئے گی تو ہم ڈومیسائل پالیسی نافذ کریں گے۔ حکومت کے پاس نہ وژن ہے نہ منصوبہ، وہی سب کچھ کر رہے ہیں جو ہم پہلے کہہ چکے ہیں۔ اب تو وہ ہماری ’ماں-بہن یوجنا‘ کو بھی کاپی کریں گے۔‘‘

ڈومیسائل پالیسی پر تاخیر پر سوال

تیجسوی نے کہا کہ ڈومیسائل پالیسی کا مطالبہ پچھلے 20 سال سے اٹھ رہا ہے، لیکن حکومت نے اب جا کر اس پر قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کے نوجوانوں کو روزگار دینے کے لیے یہ پالیسی ضروری ہے، جیسا کہ کئی ریاستوں میں اسے پہلے ہی نافذ کیا جاچکا ہے۔

شبو سورین کے انتقال پر تعزیت

تیجسوی یادو نے جھارکھنڈ مکتی مورچہ کے بانی شبو سورین کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یہ افسوسناک خبر ہے، ہم سب رانچی جا رہے ہیں۔ ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ وہ آدیواسیوں، غریبوں اور پسماندہ طبقات کے سچے سپاہی تھے۔ وہ میرے والد لالو پرساد یادو کے قریبی ساتھی بھی تھے۔ ان کے نہ ہونے سے ملک کو سیاسی نقصان ہوا ہے۔‘‘

’ووٹ ادھیکار یاترا‘ میں تبدیلی کا اعلان

تیجسوی نے بتایا کہ شبو سورین کے انتقال کی وجہ سے ’ووٹ ادھیکار یاترا‘ کے پروگرام میں تبدیلی کی گئی ہے، لیکن یہ یاترا جلد نکالی جائے گی۔

ووٹر لسٹ میں گڑبڑیوں پر تیجسوی کا اعتراض

تیجسوی یادو نے دوہری ووٹر لسٹ اور ناموں کے حذف کیے جانے پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا، ’’کئی لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے غائب ہیں جبکہ بعض گھروں میں پچاس نام درج ہیں۔ الیکشن کمیشن کو اس پر وضاحت دینی چاہیے۔ ہم تفصیلات کمیشن کو دیں گے اور عدالت میں بھی مسئلہ اٹھائیں گے۔‘‘

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read