نئی دہلی: لوک سبھا میں آپریشن سندور اور پہلگام دہشت گردانہ حملے پر جاری بحث کے دوسرے دن مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، جس کے دوران ایوان میں ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔ امت شاہ نے ایوان کو بتایا کہ 22 اپریل کو پہلگام حملے میں ملوث تین دہشت گردوں کو آپریشن مہادیو کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ فوج اور سی آر پی ایف نے دہشت گردوں کے آقا کو بھی مار گرایا۔ اس پر اکھلیش یادو نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے آقا پاکستان میں ہیں۔ جس پر امت شاہ نے طنزیہ انداز میں جواب دیا، کون… آپ کی پاکستان سے بات ہوتی ہے کیا؟ اس پر اپوزیشن کے ارکان سیخ پا ہو گئے اور ایوان میں شور شرابا شروع ہو گیا۔
آپریشن سندور پر حکومت سے سخت سوالات
اکھلیش یادو نے ڈیموکریٹک ممبر پارلیمنٹ کنی موزی کے بعد خطاب کرتے ہوئے مرکز پر براہ راست حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان سے دشمنی تھی تو جنگ بندی کا اعلان بھارت کی طرف سے ہونا چاہیے تھا، نہ کہ امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی طرف سے۔ انہوں نے طنزا کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی دوستی اتنی گہری ہے کہ انہوں نے اپنے دوست کو کہہ دیا کہ تم ہی جنگ بندی کا اعلان کرو، ہم وہی مانیں گے۔
حکومت نے کیوں قدم پیچھے کھینچے؟
اکھلیش یادو نے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت مضبوط پوزیشن میں تھا تو جنگ بندی کیوں کی گئی؟ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ حکومت یا اپوزیشن کا نہیں، بلکہ قومی سلامتی کا ہے۔ انہوں نے امریکہ کے بار بار دعویٰ پر سوال اٹھایا کہ اگر ٹرمپ نے تجارتی دھمکی دے کر جنگ بند کرائی تو حکومت اس کا کھل کر انکار کیوں نہیں کر رہی؟
افواج کی بہادری کی تعریف، میڈیا پر طنز
اکھلیش یادو نے ہندوستانی فوج کی بہادری کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا کی جری ترین افواج میں بھارتی فوج کا نام سب سے اوپر ہوگا، لیکن ساتھ ہی کچھ خبری چینلز پر طنز بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر خبریں دیکھ کر ایسا لگا جیسے کراچی، لاہور، اور پی او کے سب بھارت کے قبضے میں آ چکے ہوں۔ لیکن سچ یہ تھا کہ اچانک جنگ بندی کی خبر آ گئی، جس نے قوم کو چونکا دیا۔
حکومت کی تعریف نہیں، اپنی بھی نہیں
خطاب کے اختتام پر انہوں نے این ڈی اے ارکان پارلیمنٹ پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ جب اپوزیشن بات کرتی ہے تو حکومت کے ارکان تالیاں بجاتے ہیں، لیکن جب خود حکومت بولتی ہے تو اپنے ہی ارکان خاموش ہوتے ہیں۔
کانگریس کا حملہ: کس کے آگے جھکے؟
اس سے قبل کانگریس کے ڈپٹی لیڈر گورو گوگوئی نے بھی امریکہ کے کردار پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان گھٹنے ٹیکنے کو تیار تھا تو بھارت نے پیچھے کیوں ہٹا؟ اور کس کے آگے جھکا؟ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ کے صدر نے 26 بار کہا کہ انہوں نے بھارت اور پاکستان میں جنگ بندی کروائی۔ لیکن بھارت کے وزیر اعظم نے ان کا کبھی بھی کھل کر انکار نہیں کیا۔ اگر ہم سب وزیر اعظم کے ساتھ تھے تو آخر پیچھے کیوں ہٹ گئے؟
پس منظر: آپریشن سندور کی کارروائی
آپریشن سندور بھارت کی طرف سے پہلگام حملے کے جواب میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (PoJK) میں دہشت گردی کے ٹھکانوں پر کی گئی فضائی کارروائی ہے۔ اس کے بعد پاکستانی حملے کا بھرپور جواب دیا گیا اور ان کے ایئربیسز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کو حکومت نے درست، فیصلہ کن اور مؤثر قرار دیا ہے، جبکہ اپوزیشن اس کے سیاسی اور سفارتی پہلوؤں پر سوال اٹھا رہی ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔





