Bharat Express DD Free Dish

Owaisi slammed the government: پانی اور خون ایک ساتھ نہیں بہے گا لیکن انڈیا اور پاکستان ایک ساتھ کرکٹ میچ کھیلے گا،اویسی نے حکومت کو دکھایا آئینہ

اسدالدین اویسی نے کہا، “کیا آپ (حکومت) نے چین سے پوچھا کہ اس نے پاکستان کو ہتھیار کیوں دیے؟ کیا چین نے ہمیں جنگ بندی کرنے کا کہا؟ پاکستان نے ہمارے پائلٹس کی بات کیسے سنی؟ اور اگر پاکستان سے جنگ بندی ہوئی تو اعلان امریکی صدر کرنے والا کون ہوتا ہے۔

لوک سبھا میں آپریشن سندور پر بحث جاری ہے ۔ آپریشن سندور پر بحث کے پہلے دن وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے سب سے پہلے بحث کا آغاز کیا اس کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے لیڈران یک بعد دیگر بحث میں اپنی بات رکھتے رہے۔ پہلے دن کی بحث کے اختتام سے پہلے ایم آئی ایم چیف اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی بحث میں حصہ لیا اور اپنی بات رکھی۔ اس دوران انہوں نے ٹرمپ کی طرف سے سیزفائر کے علان پر حکومت کو زبردست انداز میں گھیرا،ساتھ ہی پاکستان  کے ساتھ کرکٹ کھیلنے پر بھی تنقید کی۔

لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران اسدالدین اویسی نے کہا کہ پی ایم مودی نے کہا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہو سکتی۔ میرا حکومت سے سوال ہے کہ کیا آپ کا ضمیر آپ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ بیسران کی وادی میں مارے گئے لوگوں کے ساتھ تجارت بند کریں… ان کی کشتیاں ہمارے پانیوں میں نہیں آسکتی، پھر آپ پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کیسے کھیلیں گے؟پہلے آپ کہتے ہو کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا تو پھر آپ پاکستان سے کرکٹ میچ کیسے کھیل سکتے ہو؟

اسدالدین اویسی نے کہا، “کیا آپ (حکومت) نے چین سے پوچھا کہ اس نے پاکستان کو ہتھیار کیوں دیے؟ کیا چین نے ہمیں جنگ بندی کرنے کا کہا؟ پاکستان نے ہمارے پائلٹس کی بات کیسے سنی؟ اور اگر پاکستان سے جنگ بندی ہوئی تو اعلان امریکی صدر کرنے والا کون ہوتا ہے۔ اس انکل شیم کو جنگ بندی کی خبر ہم سے پہلے کیسے ہوگئی؟ کیا اس انکل شیم کے اعلان سے ہماری فوج پر منفی اثر نہیں پڑے گا کہ جنگ ہم لڑ رہے ہیں اور فیصلہ کوئی اور ملک کررہا ہے؟۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read