لوک سبھا میں آپریشن سندور پر بحث جاری ہے ۔ آپریشن سندور پر بحث کے پہلے دن وزیردفاع راجناتھ سنگھ نے سب سے پہلے بحث کا آغاز کیا اس کے بعد اپوزیشن اور حکومت کے لیڈران یک بعد دیگر بحث میں اپنی بات رکھتے رہے۔ پہلے دن کی بحث کے اختتام سے پہلے ایم آئی ایم چیف اور رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے بھی بحث میں حصہ لیا اور اپنی بات رکھی۔ اس دوران انہوں نے ٹرمپ کی طرف سے سیزفائر کے علان پر حکومت کو زبردست انداز میں گھیرا،ساتھ ہی پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیلنے پر بھی تنقید کی۔
VIDEO | Speaking on Operation Sindoor in Lok Sabha, AIMIM MP Asaduddin Owaisi (@asadowaisi) said, “You have stopped trade with Pakistan, closed your airspace, stopped their ships from entering our waters, then how will you play cricket match with Pakistan?”#OperationSindoor… pic.twitter.com/il2mBjJR2S
— Press Trust of India (@PTI_News) July 28, 2025
لوک سبھا میں اپنے خطاب کے دوران اسدالدین اویسی نے کہا کہ پی ایم مودی نے کہا کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے، دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہو سکتی۔ میرا حکومت سے سوال ہے کہ کیا آپ کا ضمیر آپ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ بیسران کی وادی میں مارے گئے لوگوں کے ساتھ تجارت بند کریں… ان کی کشتیاں ہمارے پانیوں میں نہیں آسکتی، پھر آپ پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچ کیسے کھیلیں گے؟پہلے آپ کہتے ہو کہ خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتا تو پھر آپ پاکستان سے کرکٹ میچ کیسے کھیل سکتے ہو؟
#WATCH | During the discussion on Operation Sindoor in the House, AIMIM MP Asaduddin Owaisi says, “Does your conscience allow you to ask the family members of the people who were killed in Baisaran to watch India’s cricket match with Pakistan?… We are stopping 80% of Pakistan’s… pic.twitter.com/SBXH3ijGTF
— ANI (@ANI) July 28, 2025
اسدالدین اویسی نے کہا، “کیا آپ (حکومت) نے چین سے پوچھا کہ اس نے پاکستان کو ہتھیار کیوں دیے؟ کیا چین نے ہمیں جنگ بندی کرنے کا کہا؟ پاکستان نے ہمارے پائلٹس کی بات کیسے سنی؟ اور اگر پاکستان سے جنگ بندی ہوئی تو اعلان امریکی صدر کرنے والا کون ہوتا ہے۔ اس انکل شیم کو جنگ بندی کی خبر ہم سے پہلے کیسے ہوگئی؟ کیا اس انکل شیم کے اعلان سے ہماری فوج پر منفی اثر نہیں پڑے گا کہ جنگ ہم لڑ رہے ہیں اور فیصلہ کوئی اور ملک کررہا ہے؟۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




