امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مبینہ طور پر فحش خط کے بارے میں شائع ہوئی خبر کے متعلق ’وال اسٹریٹ جرنل‘ پر مقدمہ کرنے کی دھمکی دی ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ خط ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین کو 2003 میں ان کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر لکھا تھا، جس میں ایک خاتون کی قابل اعتراض تصویر تھی۔ ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کا کہنا ہے کہ اس نے خط کا جائزہ لیا ہے، لیکن کوئی تصویر شائع نہیں کی۔
’’اب میں ان پر اور ان کے اخبار پر کیس کروں گا ‘‘
امریکی صدر ٹرمپ نے ’وال اسٹریٹ جرنل‘ کی وضاحت پر سوال اٹھاتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا، ’’وال اسٹریٹ جرنل نے میرے نام سے ایپسٹین کو لکھا گیا ایک فرضی خط چھاپا، یہ میرے الفاظ نہیں ہیں، نہ ہی میں اس طرح بولتا ہوں، اور میں تصاویر بھی نہیں بناتا، میں نے روپرٹ مرڈوک سے کہا تھا کہ یہ جھوٹی کہانی ہے، پھر بھی انہوں نے اس شائع کر دیا۔ اب میں ان پر اور ان کے اخبار پر کیس کروں گا۔‘‘
ٹرمپ انتظامیہ کے رویے سے سیاسی تناؤ عروج پر
ٹرمپ اور ایپسٹین کے درمیان یہ تنازع ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایپسٹین کے جنسی استحصال کے معاملے پر ٹرمپ انتظامیہ کے رویے سے سیاسی تناؤ پہلے ہی عروج پر ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کے روز جیفری ایپسٹین کیس کے حوالے سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر ایک بیان جاری کیا۔
’’ڈیموکریٹس کی طرف سے چلایا جا رہا ہے اسکیم‘‘
انہوں نے اٹارنی جنرل پام بانڈی کو ہدایت کی کہ وہ اس کیس سے متعلق تمام متعلقہ گرینڈ جیوری کی گواہی کو عدالت کی منظوری کے مطابق منظر عام لائیں۔ ٹرمپ نے اس کیس کو ’ڈیموکریٹس کی طرف سے چلایا جا رہا اسکیم‘ قرار دیتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
ڈیموکریٹس کا یہ اسکیم ابھی بند ہونا چاہئے: ٹرمپ
صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ پر لکھا، ’’جیفری ایپسٹین پر ہنگامہ آرائی کے پیش نظر، میں نے اٹارنی جنرل پام بانڈی سے کہا ہے کہ وہ تمام ضروری گرینڈ جیوری گواہی پیش کریں، عدالت کی منظوری سے مشروط۔ ڈیموکریٹس کی طرف سے چلایا جا رہا یہ اسکیم ابھی بند ہونا چاہئے۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


