Bharat Express DD Free Dish

Air India plane crash: ڈی جی سی اے کی 2023 کی تحقیقات میں بڑا انکشاف، ایئر انڈیا نے کئی ہوائی اڈوں پر جعلی سیفٹی آڈٹ رپورٹس پیش کیں

سی سی ٹی وی فوٹیج، آڈیٹ کے بیانات، فلائٹ ریکارڈ اور شفٹ رجسٹر سے پتہ چلتا ہے کہ ایئر انڈیا نے یہ رپورٹیں ڈی جی سی اے کے دستاویزات طلب کرنے کے بعد جعلی طور پر بنائی تھیں۔

ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے 2023 کے معائنہ نے ایئر انڈیا کے حفاظتی آڈٹ کے طریقہ کار میں سنگین خامیوں کو بے نقاب کیا تھا۔ حکام نے پایا کہ ایئر لائن نے دہلی، ممبئی اور گوا سمیت کئی بڑے ہوائی اڈوں پر جعلی داخلی آڈٹ رپورٹس پیش کی تھیں۔ ریگولیٹر نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

ڈی جی سی اے کی دو رکنی ٹیم نے 13 انٹرنل سیفٹی اسپاٹ کے آڈٹ کی جانچ کی۔ ایئر لائن نے انھیں مکمل کرنے کا دعویٰ کیا، لیکن ٹیم کو حقیقی جانچ کے کوئی ثبوت نہیں ملے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج، آڈیٹ کے بیانات، فلائٹ ریکارڈ اور شفٹ رجسٹر سے پتہ چلتا ہے کہ ایئر انڈیا نے یہ رپورٹیں ڈی جی سی اے کے دستاویزات طلب کرنے کے بعد جعلی طور پر بنائی تھیں۔

غیر مجاز آڈیٹرز نے جعلی دستاویزات پر کیے دستخط

ڈی جی سی اے ٹیم نے نوٹ کیا کہ جعلی رپورٹس میں چیف آف فلائٹ سیفٹی (سی ایف ایس) کے دستخط نہیں تھے، جو مجاز اہلکار تھا۔ اس کے بجائے کوالٹی مینجمنٹ سسٹم (QMS) کے آڈیٹرز نے ان پر دستخط کیے۔ یہ عملہ ڈی جی سی اے کے سیفٹی آڈٹ کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ اس کے علاوہ CFS سے بھی کوئی تحریری اجازت نہیں تھی، صرف زبانی دعوے تھے۔

ایک آڈٹ میں 16 جولائی 2023 کو کیبن چیک درج تھا۔ ڈی جی سی اے نے پایا کہ مبینہ آڈیٹر نے ایک مسافر کے طور پر فیملی کے ساتھ فلائٹ میں سفر کیا تھا۔ ایک اور کیس میں آڈٹ میں نامزد ریمپ ڈیوٹی افسر بھی ڈیوٹی پر نہیں تھا۔ محکموں نے تصدیق کی کہ ایسی کوئی چیکنگ نہیں ہوئی ہے۔

میڈیکل اور ریمپ چیکس بھی جعلی

معائنہ رپورٹ نے پائلٹ کے الکحل کی جانچ میں فرق کو بھی نشان زد کیا۔ آڈیٹر نے سہولت کا دورہ نہیں کیا۔ کوئی ٹیسٹ ریڈنگ یا سامان کا ریکارڈ نہیں تھا۔ پھر بھی چیک لسٹ میں تمام چیزوں کو ’’اطمینان بخش‘‘ کے طور پر نشان زد کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق ایئر انڈیا فلائٹ سیفٹی آڈیٹرز کی مناسب فہرست پیش کرنے میں ناکام رہا۔

ایئر انڈیا کا جواب

ان الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ایئر انڈیا نے کہا کہ ’’ایئر انڈیا سمیت تمام ایوی ایشن کمپنیوں کا ہندوستان اور بیرون ملک ریگولیٹرز کے ذریعہ باقاعدگی سے آڈٹ کیا جاتا ہے۔ ہم ان عملوں میں سرگرمی سے حصہ لیتے ہیں اور کسی بھی مسئلے کو براہ راست متعلقہ اتھارٹی کے ساتھ حل کرتے ہیں۔‘‘ واضح رہے کہ DGCA تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر، ایئر انڈیا پر فوجداری مقدمہ، مالی جرمانہ، آپریشن پر پابندی یا تیسرے فریق کی نگرانی جیسی سخت کارروائیاں ممکن ہیں۔

ڈی جی سی اے کے موجودہ ڈائریکٹر جنرل فیض احمد قدوائی نے حادثے کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ معاملے کی مکمل جانچ کی جائے گی۔ جو بھی حقائق سامنے آئیں گے اس کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سے پہلے ڈی جی سی اے کی کمان وکرم دیو دت کے ہاتھ میں تھی۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read