نئی دہلی: وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ایشین پیرا گیمز میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ہندوستانی کھلاڑیوں سے ملاقات کی اور انہیں مبارکباد پیش کی۔ اس دوران انہوں نے کھلاڑیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی پیرا ایتھلیٹس نے پوری دنیا کو دکھا دیا ہے کہ کامیابی صرف جسمانی صلاحیت سے نہیں بلکہ مضبوط ارادوں اور خود اعتمادی سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں نے تمغے جیت کر نہ صرف ملک کا نام روشن کیا ہے بلکہ کروڑوں ہندوستانیوں کے دل بھی جیتے ہیں۔
کھیلوں کی دنیا میں نئی طاقت بن کر ابھر رہا ہندوستان
وزیر اعظم نے کہا کہ عالمی کھیلوں کے میدان میں ہندوستان کی شناخت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ انہوں نے کھلاڑیوں کی کامیابی کے پیچھے ان کے اہل خانہ، کوچز اور تربیت دینے والوں کی محنت کو بھی سراہا۔ مودی نے کہا کہ پیرا کھلاڑیوں کو تیار کرنے میں کوچز اور ٹرینرز کو عام کھلاڑیوں کے مقابلے کہیں زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور ان کا کردار انتہائی اہم ہوتا ہے۔
14 سے 114 تمغوں تک پہنچا ہندوستان
وزیر اعظم نے ہندوستان کی تاریخی کامیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سال 2010 میں ملک صرف 14 تمغے جیت سکا تھا، لیکن اس بار ہندوستانی دستے نے 114 تمغے جیت کر نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ ہندوستان کے کھاتے میں 30 طلائی، 35 نقرئی اور 49 کانسے کے تمغے آئے۔ اس کے علاوہ ہندوستانی کھلاڑیوں نے 5 نئے عالمی ریکارڈ اور 9 ایشیائی ریکارڈ بھی اپنے نام کیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابی ہندوستانی کھیلوں کی دنیا میں آنے والی بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
خواتین کھلاڑیوں کی کامیابی پر خصوصی فخر
مودی نے خواتین کھلاڑیوں کی کارکردگی کو خاص طور پر قابل ستائش قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 56 خواتین کھلاڑیوں میں سے 34 نے تمغے جیت کر ملک کا وقار بڑھایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 4 مقابلوں میں ہندوستانی کھلاڑیوں نے طلائی، نقرئی اور کانسے کے تینوں تمغے اپنے نام کیے، جو ہندوستانی کھیلوں کے لیے ایک بڑی کامیابی ہے۔
آخری دن بھی ہندوستانی کھلاڑیوں نے دکھایا دم
وزیر اعظم نے کہا کہ مقابلے کے آخری دن بھی ہندوستانی کھلاڑیوں نے 9 طلائی تمغے جیت کر اپنی مہم کا شاندار انداز میں اختتام کیا۔ انہوں نے مونا اگروال اور ہنی سمیت کئی ایتھلیٹس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کھلاڑیوں نے پوری دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ جسمانی مشکلات کسی کی صلاحیت اور کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتیں۔
رنکو کی جدوجہد کا بھی کیا ذکر
بات چیت کے دوران وزیر اعظم مودی نے رنکو کی جدوجہد کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا کہ اپنی والدہ کو کھونے جیسے افسوسناک حالات کے باوجود رنکو نے ہمت نہیں ہاری اور اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھی۔ آخرکار انہوں نے طلائی تمغہ جیت کر اپنی کامیابی اپنی والدہ کے نام وقف کر دی۔ وزیر اعظم نے اسے تحریک اور حوصلے سے بھری کہانی قرار دیا۔
2014 کے بعد کھیلوں کے نظام میں آئی تبدیلی
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں کھیلوں کے تئیں ملک کی سوچ اور نظام میں بڑی تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ پہلے کھلاڑیوں کو وسائل کی کمی، شفافیت کے مسائل اور مناسب تعاون نہ ملنے جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ لیکن حکومت نے ان خامیوں کو دور کرنے اور کھلاڑیوں کو بہتر ماحول فراہم کرنے کے لیے کام کیا ہے۔
پہلی بار کھیلنے والے کھلاڑیوں نے بھی کیا کمال
مودی نے بتایا کہ اس بار 61 کھلاڑیوں نے پہلی مرتبہ ایشین پیرا گیمز میں ہندوستان کی نمائندگی کی، جن میں سے 36 کھلاڑی تمغے جیتنے میں کامیاب رہے۔ انہوں نے سندیپ کا خصوصی طور پر ذکر کیا، جنہوں نے اپنے پہلے ہی ایشین پیرا گیمز میں عالمی ریکارڈ قائم کرکے سب کو متاثر کیا۔
کھیلو انڈیا اور ٹاپس اسکیم کا نظر آیا اثر
وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت کھیلوں کو صرف مقابلوں تک محدود نہیں سمجھتی بلکہ اسے ملک کی تعمیر اور شخصیت سازی کا ایک اہم ذریعہ مانتی ہے۔ اسی مقصد کے تحت کھیلو انڈیا مراکز، ٹاپس اسکیم اور دیگر پروگراموں کے ذریعے کھلاڑیوں کو مدد فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقابلے میں ٹاپس اسکیم سے وابستہ کھلاڑیوں نے 41 تمغے جبکہ کھیلو انڈیا سے منسلک کھلاڑیوں نے 19 تمغے اپنے نام کیے۔
کھیلوں کے شعبے میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے
مودی نے کہا کہ کھیل اب صرف میدان تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ روزگار اور کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت نے 1800 کروڑ روپے سے زیادہ کی کھیلو انڈیا اسپورٹس گڈز مینوفیکچرنگ اسکیم کو منظوری دی ہے۔ اس کا مقصد ہندوستان کو نہ صرف بہترین کھلاڑی پیدا کرنے والا ملک بنانا ہے بلکہ کھیلوں کے سازوسامان کی تیاری کے شعبے میں بھی عالمی شناخت دلانا ہے۔
میڈ اِن انڈیا کھیلوں کے سازوسامان پر زور
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستانی کھلاڑی جن آلات، کھیلوں کے ملبوسات اور جوتوں کا استعمال کرتے ہیں، وہ بھی ملک میں ہی تیار ہونے چاہئیں۔ اس سے ایم ایس ایم ای شعبے کو مضبوطی ملے گی اور چھوٹے شہروں کے ساتھ دیہی علاقوں میں بھی روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کئی اقدامات
وزیر اعظم نے معذور افراد کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جا رہے اقدامات کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت مسلسل ایسی اسکیموں پر کام کر رہی ہے، جن کے ذریعے معذور شہریوں کو بہتر سہولیات اور مساوی مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ اس سلسلے میں انہوں نے پنشن اسکیموں، ہندوستانی اشاروں کی زبان کے فروغ اور سگمیہ بھارت ابھیان کا ذکر کیا۔
اشاروں کی زبان کو مل رہی نئی پہچان
پی ایم مودی نے بتایا کہ 10 ہزار سے زیادہ الفاظ پر مشتمل اشاروں کی زبان کی لغت تیار کی جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اسکولوں میں پڑھائی جانے والی کتابیں بھی اشاروں کی زبان میں دستیاب کرائی جا رہی ہیں، تاکہ معذور طلبہ کو بہتر تعلیم حاصل کرنے میں مدد مل سکے۔
نوجوانوں کو تحریک دینے کی اپیل
وزیر اعظم نے کھلاڑیوں سے اپیل کی کہ وہ اسکولوں، کالجوں اور دیگر تعلیمی اداروں میں جاکر اپنے تجربات نوجوانوں کے ساتھ شیئر کریں۔ انہوں نے کہا کہ کھلاڑیوں کی کامیابی نوجوانوں کو کھیلوں کی جانب راغب کرنے اور اپنے خوابوں کو پورا کرنے کی تحریک دے سکتی ہے۔
اب لاس اینجلس اولمپکس 2028 پر نظریں
اپنے خطاب کے اختتام پر وزیر اعظم نے کھلاڑیوں کو مستقبل کی تیاری کرنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایشین پیرا گیمز میں کامیابی یقیناً ایک بڑی حصولیابی ہے، لیکن یہ آخری منزل نہیں ہے۔ اب ہندوستان کو لاس اینجلس اولمپکس 2028 کو اپنا ہدف بنا کر آگے بڑھنا چاہیے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وہاں زیادہ سے زیادہ ہندوستانی کھلاڑی شرکت کریں گے اور پہلے سے زیادہ تمغے جیت کر ملک کا نام روشن کریں گے۔ اس کے ساتھ ہی وزیر اعظم نے تمام کھلاڑیوں کو دیوالی کی مبارکباد دیتے ہوئے نئے عزم اور حوصلے کے ساتھ آگے بڑھنے کا پیغام دیا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

