سنبھل میں بھڑکے فسادات کے دوران پتھراؤ، آتش زنی اور پولیس پرحملے کے ایک ملزم محمد ارشد کو ایسوسی ایشن فارپروٹیکشن آف سول رائٹس یعنی اے پی سی آرکی لیگل ٹیم نے لمبی قانونی لڑائی کے بعد الہ آباد ہائی کورٹ سے ضمانت دلانے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس ضمانت سے نہ صرف ارشد بلکہ اس کے اہل خانہ نے بھی راحت کی گہری سانس لی ہے۔
الہ آباد ہائی کورٹ میں اس کیس کی پیروی اے۔ پی۔ سی۔ آر کی لیگل ٹیم کی جانب سے ایڈوکیٹ غزالہ بانو قادری اورایڈوکیٹ مسیح الدین نے کی۔ دونوں کی مضبوط دلیلیں سننے کے بعد محترم جج نے ملزم ارشد کوضمانت دینے کا اعلان کیا۔ ارشد کوملی اس ضمانت کوایک اہم قانونی فتح سے تعبیرکیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ محمد ارشد کو24 نومبر2024 کوسنبھل کی شاہی جامع مسجد کے قریب ایک متنازعہ سروے کے دوران ہونے والے تشدد کے سلسلے میں گرفتارکیا گیا تھا، جس نے علاقے میں بڑے پیمانے پربدامنی کو جنم دیا تھا۔ ارشد پرکئی دیگرافراد کے ساتھ، جائے وقوعہ پر موجود ہونے، آتش زنی، پتھراؤ اورفرقہ وارانہ کشیدگی کوبھڑکانے کی کوشش کرتے ہوئے مبینہ طور پر پولیس پر حملہ کرنے کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے ارشد مبینہ طور پر مفرور تھا تاہم بعد میں اسے گرفتار کر عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا تھا۔ ارشد کی گرفتاری کے بعد اس پر بھارتیہ نیائے سنہتا (بی۔ این۔ ایس) 2023 کی متعدد سخت دفعات کے تحت اس اور مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں سیکشن 109(1)، 117(2)، 121(2)، 132، 190، 191(2)، 191(3)، 223(b) کے ساتھ ساتھ قانون کی معتدد دفعات شامل ہیں۔
سماعت کے دوران درخواست ضمانت پر عدالت میں اے۔ پی۔ سی۔ آر کی لیگل ٹیم کی جانب سے ایڈووکیٹ غزالہ بانوقادری اور ایڈوکیٹ سید مسیح الدین نے اپنے مضبوط دلائل رکھے۔ اے۔ پی۔ سی۔ آر۔ کے وکلاء نے تمام الزامات کا مدلل جواب دیا اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے نتیجے میں پسماندہ نوجوانوں کو نشانہ بنانے کے وسیع منصوبے کے طورپرارشد کی بے گناہی اوراس کی گرفتاری کی من مانی نوعیت کواجاگر کرنے والے مختلف ثبوت پیش کرعدالت کو مطمئن کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ کورٹ نے معاملے کی سماعت کے بعد محمد ارشد کوبڑی راحت دیتے ہوئے ضمانت دینے کا فیصلہ سنا دیا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

