غزہ میں جنگ بندی کی کوششیں جاری ہیں۔ بنجامن نیتن یاہو نے اس پر اتفاق کا اعلان کیا ہے۔
غزہ میں شہری دفاع نے بتایا ہے کہ غزہ پٹی میں صبح سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں میں مزید 44 افراد کو جاں بحق کردیا گیا ہے۔ شہری دفاع کے میڈیکل سپلائی کے ڈائریکٹرمحمد المغیرنے بتایا کہ جاں بحق ہونے والوں میں سے 23 افراد مرکزی غزہ کے البریج پناہ گزین کیمپ کے مشرق میں القرییناوی خاندان کے گھرپراسرائیلی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنے۔ غزہ کی وزارت صحت نے بھی رفح میں امریکی امدادی مراکز کے قریب اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 48 گھنٹوں کے دوران 9 افراد کے جاں بحق ہونے اور60 سے زیادہ افراد کے زخمی ہونے کا بتایا۔
جبالیا اورخان یونس میں بھی متعدد فلسطینیوں کے مارے جانے کا بتایا گیا ہے۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب اسرائیلی فوج سرحدیں بند کرنے اورامداد کی ترسیل روکنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔ غزہ کی پٹی میں بچوں کو بھوک اور قحط کا سامنا ہے۔ 57 افراد بھوک سے جان دے چکے ہیں۔
حماس کا غزہ پرامریکی ایلچی کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنے کا اعلان
حماس نے اعلان کیا ہے کہ اس نے امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف کے ساتھ ایک عام فریم ورک پرایک معاہدہ کیا ہے، جس سے ایک مستقل جنگ بندی، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلاء، امداد کی ترسیل اور معاہدے کے اعلان کے فوراً بعد غزہ کی پٹی کا انتظام سنبھالنے والی ایک پیشہ ورکمیٹی کے قیام شامل ہے۔ ایک بیان میں حماس نے کہا کہ معاہدے میں 10 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور متعدد لاشوں کو سپرد کرنا شامل ہے۔ اس کے بدلے میں ثالثوں کی ضمانت پر منظور شدہ فلسطینی قیدیوں کی رہائی کی جائے گی۔ حماس نے تصدیق کی کہ وہ اس فریم ورک پر حتمی جواب کا انتظار کر رہی ہے۔
دوسری جانب اسرائیل نے ان بیانات پر سوال اٹھا دیا ہے۔ ایک اسرائیلی ذریعے نے کہا کہ حماس “اپنی پروپیگنڈہ مہم اورنفسیاتی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کہ امریکی ایلچی نے دو دن پہلے کہا تھا اسرائیل نے سٹیو وٹ کوف کی تجویز سے اتفاق کیا ہے اورحماس نے اسے مسترد کرنے پر اصرار کیا ہے۔ انہوں نے زوردے کرکہا کہ حماس کے حالات نہ تو اسرائیل اورنہ ہی امریکی انتظامیہ کے لیے اقابل قبول ہیں۔ مزید برآں ذرائع نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیلی موقف اورحماس کی خواہش کے درمیان اختلاف دو نکات کے گرد گھوم رہا ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حماس نے وٹکوف کی تجویزپراس شرط پراتفاق کیا کہ 10 قیدیوں کواسرائیلی خواہش کے مطابق نہیں بلکہ دوبیجزمیں رہا کیا جائے۔ انہوں نے کہا حماس صدرڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سے امریکی ضمانتیں چاہتی ہے۔
غزہ سے حماس کے انخلاء کا ٹائم ٹیبل
دوسری طرف مصری ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی سے حماس کے انخلاء کا ٹائم ٹیبل چاہتا ہے۔ انہوں نے العربیہ کو بتایا کہ اسرائیل غزہ میں کئی مہینوں تک اپنی فوجی موجودگی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ اسرائیل عید الاضحی سے قبل جنگ بندی میں کئی رکاوٹیں ڈال رہا ہے۔
بشکریہ العربیہ اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

