بمبئی ہائی کورٹ نے منگل کو انجینئرنگ کی ایک 19 سالہ طالبہ کو ضمانت دیتے ہوئے مہاراشٹر حکومت پر سخت نکتہ چینی کی۔ واضح رہے کہ طالبہ کو آپریشن سندور کے حوالے سے تنقیدی پوسٹ کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ جسٹس گوری گوڈسے اور سوما شیکھر سندریسن کی بنچ نے کہا کہ یہ ’’نہایت حیران کن‘‘ قدم ہے کہ حکومت کی طرف سے طالبہ کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیا گیا۔
عدالت نے دیا فوراً رہا کرنے کا حکم
عدالت نے کہا ’’یہ نہایت حیران کن ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ پولیس افسران اور اسی طرح اس کا کالج بھی اس کی زندگی برباد کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔‘‘ عدالت نے طالبہ کو فوری طور پر یعنی منگل کے روز ہی رہا کرنے کا حکم دیا اور کہا کہ اگر حکام اسے آج غروب آفتاب سے پہلے رہا کرنے میں ناکام رہے تو عدالت کوئی بھی عذر قبول نہیں کرے گی اور توہین عدالت کی کارروائی کرے گی۔
جیل کے متعلقہ افسر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ اسے آج شام ہی رہا کر دیا جائے تاکہ وہ اپنے کالج کے امتحان میں حاضر ہو سکے۔ عدالت نے اس کے خلاف منظور کیے گئے امتحان سے معطلی کے حکم کو رد کرتے ہوئے کالج کو حکم دیا ہے کہ اسے ہال ٹکٹ جاری کیا جائے۔ عدالت نے کہا کہ طالبہ کو وضاحت دینے کا موقع دیے بغیر جلد بازی میں اس کے خلاف حکم جاری کیا گیا ہے۔
طالبہ کو گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا: عدالت
عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ طالبہ کو بالکل بھی گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا، کیوں کہ اس نے فوری طور پر پوسٹ ڈیلیٹ کر دی تھی، اس پر افسوس کا اظہار کیا تھا اور معافی بھی مانگی تھی۔ واضح رہے کہ پونے کی سنگھ گڑھ اکیڈمی آف انجینئرنگ میں آئی ٹی انجینئرنگ کی دوسرے سال کی طالبہ خدیجہ شیخ نے آپریشن سندور کے دوران حکومت ہند پر تنقیدی انسٹاگرام اسٹوریز لگانے کا الزام ہے۔ تاہم اس نے دو گھنٹے بعد ہی انھیں حذف کر دیا تھا۔
جانیے کیا ہے معاملہ
اس کے باوجود اسے گرفتار کیا گیا اور اس کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا 2023 کی دفعہ 152، 196، 197، 299، 352 اور 353 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ پونے سٹی پولیس کے ساتھ ساتھ، مہاراشٹرا انسداد دہشت گردی اسکواڈ (اے ٹی ایس)، قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بھی اس کیس میں شمولیت اختیار کی۔
طالبہ کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو اس کے کالج نے ایک رسٹیکیشن لیٹر جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ چونکہ لڑکی نے ادارے کی بدنامی کی ہے، اس لیے اسے ادارے سے نکالا جا رہا ہے۔ اس میں مزید کہا گیا تھا کہ طالبہ ’’ملک مخالف جذبات‘‘ کی حامل ہے اور ’’کیمپس کمیونٹی اور معاشرے کے لیے خطرہ‘‘ ہے۔
’’اسے سدھرنے کا موقع دینے کے بجائے آپ اسے مجرم بنا رہے ہیں‘‘ عدالت نے کالج اور پولیس کے رویے پر کی سخت تنقید
دریں اثنا اس بات کا مشاہدہ کرتے ہوئے کہ لڑکی کے اس طرح کی پوسٹس کو ایک نوجوان کی ’’بے راہ روی‘‘ قرار دیا جا سکتا ہے، عدالت نے کہا ’’لڑکی نے کچھ پوسٹ کیا اور پھر اپنی غلطی کا احساس کیا اور معافی مانگی۔ اسے سدھرنے کا موقع دینے کے بجائے، ریاستی حکومت نے اسے گرفتار کر کے مجرم بنا دیا۔‘‘ عدالت نے حکومت اور کالج کے طرز عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ’’کوئی اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے، اور آپ اس کی زندگی کو اس طرح برباد کر رہے ہیں؟ ایک طالب علم کی زندگی برباد ہو گئی ہے۔‘‘
جب اضافی سرکاری وکیل پی پی کاکڑے نے دلیل دی کہ لڑکی کی پوسٹ قومی مفاد کے خلاف ہے، تو عدالت نے کہا ’’ریاست ایک طالب علم کو اس طرح گرفتار کیسے کر سکتی ہے؟ کیا ریاست چاہتی ہے کہ طالب علم اپنی رائے کا اظہار کرنا بند کر دیں؟ ریاست کی طرف سے اس طرح کا ریڈیکل رد عمل طالب علموں کو مزید بنیاد پرست بنا دے گا۔‘‘
بنچ نے لڑکی کو معطل کرنے پر کالج کی بھی تنقید کی اور کہا کہ تعلیمی ادارے کا نقطہ نظر اصلاح کا ہونا چاہیے، سزا دینے کا نہیں۔ جب کالج کے وکیل نے دلیل دی کہ ’’طلباء کا نظم و ضبط پر عمل کرنا ضروری ہے‘‘، تو ججز نے کہا ’’آپ کو اس سے کون روک رہا ہے؟ پہلے انسٹی ٹیوٹ میں کچھ نظم و ضبط پیدا کریں پھر طلباء کو اس کا پابند بنائیَ آپ جس کی تبلیغ کر رہے ہیں اس پر عمل کریں۔ اس کی اصلاح کرنے اور اسے سمجھانے کے بجائے، آپ نے اسے مجرم بنا دیا ہے۔ آپ چاہتے ہیں کہ طالب علم مجرم بن جائے؟‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
