بی جے پی رکن پارلیمنٹ برج بھوشن سنگھ کو عدالت سے بڑی راحت ملی ہے۔
Brij Bhushan Sharan Singh News: بی جے پی کے سینئر لیڈراور سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ نے پہلوانوں کے ساتھ جنسی استحصال معاملے میں عدالت سے راحت ملنے کے بعد پہلا ردعمل ظاہرکیا ہے۔ سابق رکن پارلیمنٹ نے اپنے خلاف سازش کرنے والوں کو وارننگ بھی دی ہے۔
سابق رکن پارلیمنٹ برج بھوشن سنگھ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ قوانین کا غلط استعمال رکنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے قوانین کے غلط استعمال پر روک لگنی چاہئے۔ جن لوگوں نے بھی سازش کی، ان کا حال کیا ہوگا، آپ نے دیکھا۔ ہریانہ اسمبلی الیکشن کے نتائج کے ضمن میں برج بھوشن سنگھ نے کہا کہ کانگریس کے ہڈا (بھوپیندرسنگھ ہڈا) 11 بجے وزیراعلیٰ بن رہے تھے، لیکن 11 بجے کے بعد وہ سنتری بھی نہیں بنے۔ ہم ہنومان جی کے بھکت ہیں، جوبھی غلط کرے گا، اسے اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
برج بھوشن سنگھ کے حق میں آئے فیصلے کے بعد ان کے بیٹے اوررکن پارلیمنٹ کرن بھوشن سنگھ نے بھی ردعمل ظاہرکیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ سچائی اورحقیقت کی فیصلہ کن جیت ہے۔ سچائی پریشان ہوسکتی ہے، لیکن ہارنہیں سکتا۔ عدلیہ زندہ آباد، نیتا جی زندہ آباد۔
عدالت نے منظورکی رپورٹ
پٹیالہ ہاؤس کورٹ کے ایڈیشنل سیشن جج (اے ایس جے) گومتی منوچا نے کہا کہ کلوزررپورٹ قبول کرلی گئی ہے۔ اس سے پہلے 17 مئی کو اے ایس جے گومتی منوجا نے اس پہلوان کوطلب کیا تھا، جس نے برج بھوشن سنگھ پرجنسی استحصال کا الزام لگایا تھا۔ عدالت نے اسے 26 مئی کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا۔ پولیس کی کلوزررپورٹ 15 جون 2023 کوداخل کی گئی تھی، جس کی شکایت کنندہ نے مخالفت نہیں کی تھی۔ متاثرہ اوراس کے والد نے یکم اگست 2023 کوپولیس جانچ پراطمینان کا اظہارکیا تھا اورمعاملے میں پولیس کی رپورٹ پرکوئی اعتراض نہیں کیا۔
اے ڈی جے چھوی کپورکے سامنے بند کمرے میں انہوں نے اپنا بیان درج کرایا تھا۔ عدالت نے 4 جولائی 2023 کو پولیس کی کلوزر رپورٹ پرشکایت کنندہ سے جواب مانگا تھا۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پولیس کی طرف سے داخل 550 صفحات کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ نابالغ پہلوان کے ذریعہ لگائے گئے الزامات کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

