پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان جو طویل عرصے سے جیل میں ہیں، انہوں نے ملک کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو طنزیہ نشانہ بناتے ہوئے ان پر طنزکسا ہے۔ عمران خان نے جمعرات کو کہا کہ عاصم منیر کو خود کو ‘ بادشاہ ‘ کہنا چاہیے تھا، فیلڈ مارشل نہیں۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو گزشتہ منگل کو فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ انہیں یہ پروموشن ہندوستان کے ساتھ حالیہ فوجی تنازع میں اپنے کردار کے لیے ملا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت پاکستان ہمیشہ فوج کے دباؤ میں رہی ہے۔ اسی وجہ سے عاصم منیر کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے اور دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ منیر نے خود کو پروموشن دیا ہے۔
بادشاہ کا خطاب بہتر ہوتا- عمران خان
سابق وزیراعظم عمران خان نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا کہ “جنرل عاصم منیر کو فیلڈ مارشل بنا دیا گیا ہے، قابل ذکر بات یہ ہے کہ بہتر ہوتا کہ عاصم منیر کو بادشاہ کا خطاب دیا جاتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں ابھی تک جنگل قانون نافذ ہے۔ اور جنگل میں صرف ایک راجہ ہوتا ہے”۔ آپ کو بتاتے چلیں کہ عاصم منیر پاکستان کے دوسرے آرمی چیف ہیں، جنہیں فیلڈ مارشل کا خطاب دیا گیا ہے۔ پہلے یہ خطاب ایوب خان کو دیا گیا تھا۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ایسی جگہ بنا ہوا ہے، جہاں قانون صرف کمزوروں پر لاگو ہوتا ہے، طاقتور پر نہیں۔
کوئی ڈیل نہیں ہوئی، عمران خان
پاکستان کے سابق وزیراعظم عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی ڈیل نہیں ہوئی۔ یہ سب باتیں جھوٹ ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ عمران خان نے فوج کو کھلے عام دعوت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فوج کو واقعی پاکستان کے مفادات اور مستقبل کی فکر ہے، تو وہ ان سے بات کر سکتی ہے۔
بھارت کے ایک اور حملے سے کشیدگی
عمران خان نے پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف کو بھارت کے ایک اور حملے کے بارے میں بھی خبردار کیا ہے۔ عمران حان نے کہا ہے کہ شہباز ایسی کسی بھی صورتحال کے لیے تیار رہیں۔ عمران خان نے کہا ہے کہ پاکستان کو اس وقت بیرونی خطرات، دہشت گردی میں اضافہ اور معاشی بحران کا سامنا ہے۔
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


