Bharat Express DD Free Dish

Israel-Gaza Conflict: آپریشن “عربات جدعون” کے تحت پورے غزہ پر کنٹرول حاصل کر لیں گے ، صرف معمولی خوراک اور دوائیں غزہ میں داخل ہوں گی،غزہ کو ملبے میں بدلنے کا اسرائیلی اعلان

ذرائع نے انکشاف کیا کہ خصوصی فورس خواتین کا لباس پہن کر اور پناہ گزینوں کے بیگ اٹھائے ہوئے داخل ہوئی۔ اس نے القسام بریگیڈز کے ایک ذمے دار کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ ممکنہ طور پر کچھ قیدیوں کے ہمراہ سرنگوں سے باہر نکلا ہے۔ بعد ازاں یہ واضح ہوا کہ وہاں کوئی قیدی موجود نہیں، تو فورس کارروائی کے بعد واپس چلی گئی، جب کہ اس کے نتائج پوری طرح واضح نہیں ہو سکے۔

غزہ میں فوجی کارروائیاں جاری رہنے اور مذاکرات کے ساتھ ساتھ ان میں توسیع کے دوران، اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ فوج غزہ کے تمام علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے راستے پر گامزن ہے۔

اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بتسلئیل سموتریچ نے پیر کے روز ایک متنازعہ بیان میں کہا ہے کہ غزہ کو صرف “کم سے کم خوراک اور دوا” فراہم کی جائے گی، اور یہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ “حماس تک ان میں سے کچھ نہیں پہنچے گا”۔ ان کا کہنا تھا:کہ”ہم گذشتہ ڈیڑھ سال سے غزہ کو مکمل طور پر تباہ کر رہے ہیں اور اُسے ملبے کا ڈھیر بنا دیں گے۔ فوج ایک پتھر بھی اپنی جگہ پر نہیں چھوڑے گی”۔ سموٹریچ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ “غزہ کے شہریوں کو جنوبی حصے میں دھکیلا جائے گا اور وہاں سے وہ تیسرے ممالک منتقل ہوں گے”۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے بھی پیر کے روز دعویٰ کیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں قحط کی صورتحال نہیں پیدا ہونے دے گا، تاکہ “جنگ کے اہداف حاصل کیے جا سکیں”۔ ان کے بقول اگر غزہ میں بھوک کی شدت بڑھی تو اسرائیل عالمی حمایت کھو دے گا اور “سفارتی مصلحتوں” کے تحت اسے ایسا کرنے سے گریز کرنا ہوگا۔

نیتن یاھو کے دفتر کی جانب سے ایک روز قبل اعلان کیا گیا تھا کہ اسرائیل غزہ میں صرف “ناگزیر ضرورت کی مقدار” میں خوراک داخل ہونے کی اجازت دے گا، حالانکہ مارچ کے آغاز سے اب تک اسرائیل نے تمام انسانی امداد کا داخلہ روک رکھا ہے۔

عالمی ادارے اور اقوام متحدہ مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ اگر فوری اقدام نہ کیا گیا تو غزہ میں قحط کی ہولناک لہر پھیل سکتی ہے۔ خوراک کی شدید قلت اور بارڈر کراسنگ کی مسلسل بندش کے باعث لاکھوں جانیں خطرے میں ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں کی 12 مئی 2025ء کو جاری کردہ مشترکہ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ پورا غزہ شدید قحط کے خطرے سے دوچار ہے۔ رپورٹ کے مطابق مئی سے ستمبر 2025 ءکے درمیان 4 لاکھ 70 ہزار افراد “قحط کے بدترین درجے” (مرحلہ پنجم) کا سامنا کریں گے، جو کہ پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں 250 فیصد اضافہ ہے۔

غزہ پر مکمل کنٹرول کی کوشش

نیتن یاہو نے پیر کے روز اپنے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر جاری کردہ ایک وڈیو میں کہا کہ کارروائی میں توسیع کے بعد اسرائیلی افواج اب محصور غزہ کے تمام علاقوں پر قابض ہونے کی راہ پر گامزن ہیں۔ یہ بات فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بتائی۔ خان یونس میں کارروائی اور اسرائیلی قیدیوں کو نکالنے کے لیے ایک خصوصی اسرائیلی فورس کے داخلے کے بارے میں بات کرتے ہوئے، نیتن یاہو نے تصدیق کی کہ فوج اپنا کام انجام دے رہی ہے۔ تاہم، انھوں نے اس کارروائی کی تفصیلات بیان کرنے سے گریز کیا۔

نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ غزہ میں قحط کی حالت تک پہنچنے سے بچنا ضروری ہے تاکہ اسرائیل اپنی حمایت سے محروم نہ ہو، اور اس کے بقول “سفارتی وجوہات” بھی اس کی متقاضی ہیں۔ انھوں نے واضح کیا کہ “اسرائیل کے دوستوں” نے انھیں بتایا ہے کہ اگر فلسطینی علاقوں میں اجتماعی قحط کی تصاویر نشر کی گئیں تو وہ جنگ کی حمایت جاری نہیں رکھ سکیں گے۔

العربیہ کے ذرائع نے پیر کے روز بتایا ہے کہ اسرائیلی فوج کی ایک خصوصی فورس غزہ کی پٹی کے شہر خان یونس کے وسط میں داخل ہو گئی ہے تا کہ اسرائیلی قیدیوں کو نکالنے کا مشن انجام دے سکے۔ تاہم ذرائع نے واضح کیا کہ “اس کارروائی کے دوران کوئی اسرائیلی یرغمالی رہا نہیں کرایا جا سکا”۔

خواتین کے لباس میں ملبوس فوجی

ذرائع نے مزید انکشاف کیا کہ یہ خصوصی فورس خواتین کا لباس پہن کر اور پناہ گزینوں کے بیگ اٹھائے ہوئے داخل ہوئی۔ اس نے القسام بریگیڈز کے ایک ذمے دار کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جس کے بارے میں اطلاع ملی تھی کہ وہ ممکنہ طور پر کچھ قیدیوں کے ہمراہ سرنگوں سے باہر نکلا ہے۔ بعد ازاں یہ واضح ہوا کہ وہاں کوئی قیدی موجود نہیں، تو فورس کارروائی کے بعد واپس چلی گئی، جب کہ اس کے نتائج پوری طرح واضح نہیں ہو سکے۔ اسی دوران ایک اسرائیلی ذریعے نے بتایا کہ “اس کارروائی کا مقصد القسام بریگیڈزکے ایک رہنما کو اغوا کرنا اور ساتھ ہی قیدیوں کو نکالنا تھا۔”

دوسری طرف، اسرائیلی فوج کے ترجمان نے اعلان کیا کہ اسرائیلی افواج غزہ کے تمام علاقوں میں “عربات جدعون” کے نام سے آپریشن انجام دے رہی ہیں، تاہم ترجمان نے خان یونس کی اس مخصوص کارروائی کا ذکر نہیں کیا۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read