مرکزی تعلیمی بورڈ کے چیئرمین پروفیسر سلیم انجینئر۔ (فائل فوٹو)
نئی دہلی: جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر پروفیسر سلیم انجینئر نے حیدر آباد کے چار مینار کے قریب آتشزدگی کے الم ناک حادثے پر اپنے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ اس جان لیوا حادثے میں 17 افراد جاں بحق ہوئے ہیں، جن میں 8 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔
جماعت اسلامی ہند کے نائب امیر سلیم انجینئر نے کہا کہ ’’گلزار ہاؤس میں پیش آنے والے اس افسوسناک واقعے پر ہمیں گہرا دکھ ہے جہاں ایک رہائشی و تجارتی عمارت میں آگ لگنے سے 17 افراد، جن میں کئی معصوم بچے اور بزرگ بھی شامل ہیں، جاں بحق ہو گئے ہیں۔ ہم مرحومین کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہیں اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا گو ہیں۔‘‘
واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیق ہو: پروفیسر سلیم انجینئر
انھوں نے اس حادثے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ’’ساتھ ہی ہم حکومتِ تلنگانہ اور بلدیاتی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کرائے اور حفاظتی اصولوں کی خلاف ورزی کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروائی کرے۔‘‘ پروفیسر سلیم انجینئر نے مزید کہا کہ ’’یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ فائر سیفٹی کے اصولوں کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ آگ بجھانے میں تاخیر، تنگ گلیوں تک پہنچنے میں مشکلات اور اس سانحے کی شدت ایک سنگین لاپروائی کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ حکام نے حالات پر قابو پانے کے لیے اسکائی لفٹس اور فائر روبوٹس جیسے جدید آلات کا استعمال کیا ہے لیکن جانی نقصان کی شدت سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہری آبادیوں میں آگ سے بچاؤ کے انتظامات انتہائی ناقص ہیں۔ اس تعلق سے قومی سطح پر جوابدہی طے کی جانی چاہئے۔
قومی کمیشن کی تشکیل کا کیا مطالبہ
نائب امیر جماعت اسلامی ہند نے مزید کہا کہ ’’ہم اپنے اس مطالبے کو دہراتے ہیں کہ سابق ڈی جی فائر سرویسز وسول ڈیفنس کی سربراہی میں ایک قومی کمیشن تشکیل دیا جائے تاکہ موجودہ فائر انفراسٹرکچر کا جائزہ لے کر اس کی بہتری کی سفارشات دی جا سکیں اور تمام رہائشی و تجارتی عمارتوں میں حفاظتی اصولوں پر سختی سے عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔‘‘
بھارت ایکسپریس اردو
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


