Bharat Express DD Free Dish

PM Modi holds important meeting with army chiefs: وزیر اعظم مودی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ہندوستانی افواج کے سربراہان کے ساتھ کی اہم میٹنگ، این ایس اے اور وزیر دفاع بھی رہے موجود

دریں اثنا وزیراعظم نے مسلح افواج کے سابق فوجیوں کے ایک گروپ سے بھی ملاقات کی، جس میں موجودہ صورت حال سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

پاکستان کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو اپنی سرکاری رہائش گاہ پر ہندوستانی فوج کے تینوں حصوں یعنی آرمی، بحریہ اور فضائیہ کے سربراہوں کے ساتھ ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کی۔ پی ٹی آئی کی خبر کے مطابق قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ بھی اس میٹنگ میں موجود تھے۔

دریں اثنا وزیراعظم نے مسلح افواج کے سابق فوجیوں کے ایک گروپ سے بھی ملاقات کی، جس میں موجودہ صورت حال سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ سابق فوجیوں میں فوج، فضائیہ اور بحریہ کے سابق سربراہان کے ساتھ ساتھ دیگر ریٹائرڈ افسران بھی شامل تھے، جنھوں نے ملک کی خدمت کی ہے۔

ہندوستان نے پاکستانی ڈرون حملے کو کیا ناکام

یہ ملاقات نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد کئی اعلیٰ سطحی میٹنگس کا حصہ ہے۔ 22 اپریل کو پہلگام دہشت گردانہ حملے کے جواب میں پاکستان اور پاکستان کے زیر قبضہ کشمیر (پی او کے) میں 7 مئی کو دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کے نو مقامات کے خلاف ہندوستانی فوج کی کارروائی کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگ بڑھ گئی ہے۔ پاکستان کے ساتھ تنازعہ اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب 8 اور 9 مئی کی درمیانی رات کو پاکستان نے ہندوستانی فوجی اڈوں پر حملوں کی کوشش کی، جسے ہندوستانی مسلح افواج نے ناکام بناتے ہوئے پاکستان کو مناسب جواب بھی دیا۔

کرنل صوفیہ قریشی نے وکرم مسری کے ساتھ وزارت دفاع کی جانب سے معنقدہ آج کی بریفنگ میں کہا کہ پاکستان نے فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ہندوستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ پاکستان نے جمعرات کی رات ہندوستانی فوجی مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہوئے لیہہ سے سر کریک تک 36 مقامات پر 300-400 ڈرون حملے کیے تھے، تاہم ہندوستانی فوج نے ان ڈرونز کو کامیابی سے روکا اور مار گرایا۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read