Bharat Express DD Free Dish

NSA Ajit Doval

چین نے پیپلز لبریشن آرمی (PLA) کے سابق ویسٹرن تھیٹر کمانڈ کے سربراہ جنرل ژاؤ زونگ چی (Zhao Zongqi) کو چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس (CPPCC) سمیت کئی اہم عہدوں سے ہٹا دیا ہے۔ جنرل ژاؤ کا نام 2017 کے ڈوکلام تنازع اور جون 2020 کی گالوان وادی میں بھارت اور چین کے درمیان ہونے والی جھڑپ کے دوران چینی فوج کی حکمت عملی سے جوڑا جاتا رہا ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر (این ایس اے) اجیت ڈووال کے پیر کو ہونے والے چین کے دورے کو خارجہ امور کے ماہر وائل عواد نے انتہائی اہم قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس دورے کے دو اہم مقاصد ہیں۔ ایک، بھارت اور چین کے درمیان سرحدی تنازع سمیت باہمی مسائل کو حل کرنا اور دوسرا، چین کے صدر شی جن پنگ کو آئندہ برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کی دعوت دینا۔

بھارتی سفارت خانے کے مطابق، اجیت ڈووال نے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے نیک خواہشات بھی پیش کیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید گہرا کرنے، علاقائی سکیورٹی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

چینی وزیرخارجہ کے ساتھ ملاقات میں اجیت ڈوبھال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے جلد ہی چین کا دورہ کریں گے۔

پوتن کا دورہ بھارت ایک ایسے وقت میں ہو گا جب امریکہ نے روسی تیل کی خریداری  نہ روکنے پر بھارت پر پچاس فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اجیت ڈوول کے دورہ روس سے پہلے، ماسکو نے اپنے تجارتی شراکت داروں کے انتخاب کے ہندوستان کے حق کی حمایت کرتے ہوئے ٹرمپ کو نشانہ بنایا تھا۔

این ایس اے اجیت ڈوول نے کہاکہ  ہمیں اپنی دیسی ٹیکنالوجی تیار کرنی ہوگی۔ یہاں آپریشن سندور کا ذکر کیا گیا۔ ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اس میں کتنا دیسی مواد تھا... ہم نے پاکستان بھر میں 9 دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنانے کا فیصلہ کیا، یہ سرحدی علاقوں میں نہیں تھے۔

ہندوستان اور برطانیہ کے درمیان یہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ممالک ہند پیسیفک خطے میں استحکام اور حکمرانی پر مبنی بین الاقوامی نظم کو برقرار رکھنے کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں۔

بھارت اور روس نے اپنی دفاعی اور اقتصادی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے نئے مواقع تلاش کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک مشترکہ فوجی مشقوں اور دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں تعاون کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

وانگ یی نے کہا کہ چین ڈوول کے اس بیان کی تعریف کرتا ہے کہ جنگ ہندوستان کی پسند نہیں ہے اور پوری امید ہے کہ دونوں فریق پرامن رہیں گے اور تحمل کا مظاہرہ کریں گے۔ ہم اختلافات کو بات چیت اور مشاورت سے حل کریں گے

دریں اثنا وزیراعظم نے مسلح افواج کے سابق فوجیوں کے ایک گروپ سے بھی ملاقات کی، جس میں موجودہ صورت حال سے متعلق مختلف امور پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔