Bharat Express DD Free Dish

US hints at withdrawing mediation Russia-Ukraine talks: روس-یوکرین مذاکرات میں پیش رفت نہ ہونے پر امریکہ کا ثالثی کردار سے دستبردار ہونے کا اشارہ

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان، ٹیمی بروس نے “فوکس نیوز” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ “ہمارا موقف یوکرین میں امن مذاکرات میں ثالثی کے کردار کے حوالے سے بدستور وہی ہے … تاہم اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو ہم ثالثی کے کردار سے پیچھے ہٹ جائیں گے”۔

امریکی وزارت خارجہ نے ہفتے کے روز ایک بار پھر اشارہ دیا ہے کہ اگر روس اور یوکرین کے درمیان مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہ ہوئی تو امریکا ثالثی کے کردار سے دست بردار ہو سکتا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان، ٹیمی بروس نے “فوکس نیوز” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ “ہمارا موقف یوکرین میں امن مذاکرات میں ثالثی کے کردار کے حوالے سے بدستور وہی ہے … تاہم اگر مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو ہم ثالثی کے کردار سے پیچھے ہٹ جائیں گے”۔

ٹیمی کا مزید کہنا تھا کہ “بعض میڈیا اداروں نے اس بات کو اس طرح پیش کیا کہ جیسے امریکہ یوکرین سے نکل رہا ہے یا امن عمل سے دست بردار ہو رہا ہے، مگر یہ درست نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم جنگ بندی کے حصول کی خواہش ترک کر رہے ہیں، یا اس سمت میں اپنی بھرپور کوششیں ترک کر دیں گے، یا یہ کہ ہم تنازع کو مکمل طور پر ختم کرنے کی کوشش نہیں کریں گے”۔

وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کانگریس کو یوکرین کے لیے 31 کروڑ ڈالر کے اس معاہدے سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس میں ایف-16 طیاروں کی مرمت و دیکھ بھال کے لیے سازوسامان اور خدمات کی فراہمی شامل ہے۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعرات کو “فوکس نیوز” سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یوکرین میں جنگ “کسی بھی وقت جلد ختم نہیں ہونے والی”۔ وینس کا کہنا تھا کہ “اب جب کہ فریقین ایک دوسرے کے امن کے لیے درکار شرائط جان چکے ہیں، فیصلہ اب روسیوں اور یوکرینیوں پر ہے کہ وہ اس وحشیانہ اور ہلاکت خیز تنازع کو ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر پہنچیں”۔ امریکی نائب صدر کے مطابق جب تک موقف میں کوئی بڑی تبدیلی نہ آئے، یہ جنگ جلد ختم نہیں ہو گی۔

“فوکس نیوز” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں روبیو نے کہا کہ “فریقین ایک دوسرے کے قریب تو آئے ہیں، لیکن اب بھی بہت دور ہیں، اور اس عمل کو ممکن بنانے کے لیے جلد ہی کوئی حقیقی پیش رفت درکار ہو گی”۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ایسا نہ ہوا، تو صدر کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ ہم اس معاملے پر مزید کتنا وقت صرف کریں۔ روبیو نے کہا کہ امریکا کو دیگر عالمی نوعیت کے فوری مسائل کا بھی سامنا ہے، جن میں چین کے ساتھ تجارتی کشیدگی اور ایران کے جوہری منصوبے شامل ہیں۔ روبیو نے اس بات کو بھی دہرایا کہ یوکرین کی جنگ کا کوئی عسکری حل موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر ولادی میر پوتین پورے یوکرین پر قبضہ نہیں کر سکتے، اور نہ یوکرین روسی افواج کو 2014 سے قبل کی پوزیشن پر دھکیل سکتا ہے۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read