نشی کانت دوبے کا سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی پر بڑا الزام
رانچی: بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے سابق چیف الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس وائی قریشی پر مسلم کمشنر ہونے کا الزام لگاتے ہوئے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر پوسٹ کیا ہے۔ دوبے نے قریشی کی ایک پوسٹ کا جواب دیا، جس میں قریشی نے وقف قانون کو سرکار کی ایسی اسکیم قرار دیا تھا، جو مسلمانوں کی زمینوں پر قبضہ کرنے کے لیے بنائی گئی ہے۔ دوبے نے قریشی پر جھارکھنڈ کے سنتھال پرگنہ علاقے میں ان کے مدت کار کے دوران بنگلہ دیشی دراندازوں کو ووٹر بنانے کا الزام لگایا۔
دراصل، 17 اپریل کو سابق چیف الیکشن کمشنر قریشی نے ایک ‘X’ پوسٹ میں لکھا تھا، ’’یہ وقف قانون یقینی طور پر مسلمانوں کی زمین ہڑپنے کی حکومت کی ایک بہت ہی شیطانی سازش ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ سپریم کورٹ اسے غلط قرار دے گی۔ شرارتی پروپیگنڈہ مشینری نے بھی غلط معلومات پھیلا کر اپنا کام اچھے سے کر دیا ہے۔‘‘
Wakf Act is undoubtedly a blatantly sinister / evil plan of the govt to grab Muslim lands. I’m sure SC will call it out. Misinformation by the mischievous propaganda machine has done its job well.
— Dr. S.Y. Quraishi (@DrSYQuraishi) April 17, 2025
اس پوسٹ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے نشی کانت دوبے نے 20 اپریل کو لکھا، ’’آپ الیکشن کمشنر نہیں، بلکہ مسلم کمشنر تھے۔ جھارکھنڈ کے سنتھال پرگنہ میں بنگلہ دیشی دراندازوں کو ووٹر سب سے زیادہ آپ کے دور میں ہی بنایا گیا۔ مذہب اسلام ہندوستان میں 712 میں آیا، اس سے پہلے یہ زمین ہندوؤں کی یا اس عقیدے سے وابستہ قبائلیوں، جین یا بدھ مت کے ماننے والوں کی تھی۔‘‘
आप चुनाव आयुक्त नहीं,मुस्लिम आयुक्त थे,झारखंड के संथालपरगना में बांग्लादेशी घुसपैठिया को वोटर सबसे ज़्यादा आपके कार्यकाल में ही बनाया गया ।पैगंबर मुहम्मद साहब का इस्लाम भारत में 712 में आया,उसके पहले तो यह ज़मीन हिंदुओं की या उस आस्था से जुड़ी आदिवासी,जैन या बौद्ध धर्मावलंबी की… https://t.co/yf8uBjmoYN
— Dr Nishikant Dubey (@nishikant_dubey) April 20, 2025
ملک کو متحد کرنے کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے پوسٹ میں مزید لکھا، “میرے گاؤں وکرم شیلا کو بختیار خلجی نے 1189 میں جلا دیا تھا۔ آتش دیپانکر کی شکل میں وکرم شیلا یونیورسٹی نے دنیا کو پہلا وائس چانسلر دیا، اس ملک کو جوڑو، تاریخ پڑھو، توڑنے سے پاکستان بنا، کیا اب بٹوارا نہیں ہوگا؟‘‘
بتا دیں کہ اس سے پہلے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے نے وقف ایکٹ پر سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے تناظر میں عدلیہ کے کردار پر سوال اٹھائے تھے۔ عدلیہ کے کردار پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ اگر سپریم کورٹ ہی قانون بنائے گا تو پارلیمنٹ کو بند کر دینا چاہیے۔ دوبے کے اس بیان پر اپوزیشن نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ ساتھ ہی بھارتیہ جنتا پارٹی نے اس بیان سے خود کو الگ کرتے ہوئے اسے لیڈر کی ذاتی رائے قرار دیا اور اس طرح کے تبصروں سے بچنے کی ہدایات جاری کیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
