Today, the BJP needs Modi:بی جے پی کی مجبوری ہیں پی ایم مودی، اگر مودی نہ ہوں تو150 سیٹ بھی نہیں جیت پائے گی بی جے پی:نشی کانت دوبے
آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے 75 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ سے متعلق بیان پر نشی کانت دوبے نے کہا کہ آج مودی کو بی جے پی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بی جے پی کو مودی کی ضرورت ہے۔ آپ اتفاق کریں یا اختلاف کریں لیکن ایک سیاسی جماعت شخصیت پرستی کی بنیاد پر چلتی ہے۔
BJP MP Nishikant Dubey on Urdu Language: ’’مہاراشٹرمیں اردوزبان والوں کومارکردکھاؤ…‘‘ بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے نے ہندی-مراٹھی تنازعہ میں اردوکوبھی گھسیٹا
مہاراشٹرکے اندرجاری زبان تنازعہ کے درمیان بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کا ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ہندی زبان بولنے والے لوگوں کومارنے والوں سے کہا کہ اگر ہمت ہے تواردوزبان والوں کومارکردکھاؤ۔
Supreme Court rebukes BJP MP Nishikant Dubey remarks on CJI: نشی کانت دوبے کے تبصرہ پر سپریم کورٹ نے لگائی پھٹکار، کہا- انتہائی غیر ذمہ دارانہ، عدالت نے دیا یہ حکم
سپریم کورٹ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے ذریعہ چیف جسٹس پرکئے گئے بے حد غیرذمہ دارانہ تبصرہ کی سخت مذمت کی ہے۔ عدالت نے اسے توجہ مبذول کرانے کی کوشش قراردیا تاہم توہین عدالت کی کارروائی سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اتنی نازک نہیں ہیں کہ وہ مضحکہ خیز بیانات سے مرجھا جائیں۔
Pahalgam Attack: ’’پاکستان کو چار حصوں میں تقسیم کر دیں گے پی ایم مودی…‘‘، بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے کا بڑا دعویٰ
22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے، نشی کانت دوبے نے کہا کہ ’پاکستانی فوج‘ نے ہندوستانیوں کو، خاص طور پر ہندوؤں کو چن چن کر مارا ہے۔ مودی حکومت اس حملے کا بدلہ ہر حال میں لے گی۔
Supreme Court to hear plea for contempt case: نشی کانت دوبے کی مشکلات میں اضافہ، توہین عدالت کے مقدمے کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ نے تاریخ کردی طے
سپریم کورٹ کے وکیل انس تنویر، جو وقف ایکٹ کے مقدمے میں ایک فریق کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی کو خط لکھ کر نشی کانت دوبے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت مانگی۔
Nishikant Dubey’s big allegation against SY Quraishi: نشی کانت دوبے کا سابق الیکشن کمشنر ایس وائی قریشی پر بڑا الزام، کہا- جھارکھنڈ میں آپ کے دور میں بنایا گیا دراندازوں کو ووٹر
17 اپریل کو سابق چیف الیکشن کمشنر قریشی نے ایک 'X' پوسٹ میں لکھا تھا، ’’یہ وقف قانون یقینی طور پر مسلمانوں کی زمین ہڑپنے کی حکومت کی ایک بہت ہی بری سازش ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ سپریم کورٹ اسے غلط قرار دے گی۔ شرارتی پروپیگنڈہ مشینری نے بھی غلط معلومات پھیلا کر اپنا کام اچھے سے کر دیا ہے۔‘‘
You are tubelights,Owaisi’s swipe at BJP: اویسی کا نشی کانت دوبے پر پلٹ وار،بی جے پی لیڈران کو ٹیوب لائٹ دیا قرار،سپریم کورٹ کو دھمکی دینے پر اٹھائے سوال
بی جے پی نے دوبے کے بیان سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ بھارتیہ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ نشی کانت دوبے اور دنیش شرما کے عدلیہ اور ملک کے چیف جسٹس کے بارے میں دیے گئے بیانات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
BJP distances itself from Nishikant Dubey’s statement: بی جے پی نے نشی کانت دوبے اور دنیش شرما کے بیانات سے خود کو کیا الگ، کہا- یہ ان کا ذاتی بیان ہے
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے نشی کانت دوبے کے سپریم کورٹ کے بیان کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پر ان کا حملہ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ سپریم کورٹ کے خلاف توہین آمیز بیان ہے۔ نشی کانت دوبے ایک ایسا شخص ہے جو دوسرے تمام اداروں پر مسلسل حملے کرتا رہتا ہے۔ اب اس نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ پر ان کا حملہ قابل قبول نہیں ہے۔
Ruckus in JPC meeting on Waqf: وقف پر جے پی سی میٹنگ میں ہنگامہ، نشی کانت دوبے اور کلیان بنرجی کے درمیان گرما گرم بحث، 10 اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ معطل
وقف ترمیمی بل پر مشترکہ کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی لیڈر جگدمبیکا پال کی ہے، نے اپوزیشن لیڈروں کے اعتراضات کے بعد مسودہ قانون پر بحث کو اگلے ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے۔ کمیٹی پیر کو بل پر تفصیلی غور کرے گی۔ میرواعظ کے علاوہ کمیٹی جمعہ کو لائرز فار جسٹس گروپ کے خیالات بھی سنے گی۔
India strict on Facebook Zuckerberg statement: مارک زکربرگ کو ہندوستان سے مانگنی پڑے گی معافی،پارلیمانی کمیٹی نے میٹا کو نوٹس بھیجنے کا کیا فیصلہ
مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بھی زکربرگ کے بیان کی تردید کی تھی۔ اشونی ویشنو نے کہا تھا کہ زکربرگ اپنی کمپنی فیس بک کے ذریعے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ غلط معلومات دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حقائق اور اعتبار کو برقرار رکھنا چاہیے۔





