Bharat Express DD Free Dish

Dr. Nishikant Dubey

آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے 75 سال کی عمر میں ریٹائرمنٹ سے متعلق بیان پر نشی کانت دوبے نے کہا کہ آج مودی کو بی جے پی کی ضرورت نہیں ہے بلکہ بی جے پی کو مودی کی ضرورت ہے۔ آپ اتفاق کریں یا اختلاف کریں لیکن ایک سیاسی جماعت شخصیت پرستی کی بنیاد پر چلتی ہے۔

مہاراشٹرکے اندرجاری زبان تنازعہ کے درمیان بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کا ایک بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے ہندی زبان بولنے والے لوگوں کومارنے والوں سے کہا کہ اگر ہمت ہے تواردوزبان والوں کومارکردکھاؤ۔

سپریم کورٹ نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ نشی کانت دوبے کے ذریعہ چیف جسٹس پرکئے گئے بے حد غیرذمہ دارانہ تبصرہ کی سخت مذمت کی ہے۔ عدالت نے اسے توجہ مبذول کرانے کی کوشش قراردیا تاہم توہین عدالت کی کارروائی سے انکارکرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اتنی نازک نہیں ہیں کہ وہ مضحکہ خیز بیانات سے مرجھا جائیں۔

22 اپریل کو جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے، نشی کانت دوبے نے کہا کہ ’پاکستانی فوج‘ نے ہندوستانیوں کو، خاص طور پر ہندوؤں کو چن چن کر مارا ہے۔ مودی حکومت اس حملے کا بدلہ ہر حال میں لے گی۔

سپریم کورٹ کے وکیل انس تنویر، جو وقف ایکٹ کے مقدمے میں ایک فریق کی نمائندگی کر رہے ہیں، نے اٹارنی جنرل آر وینکٹ رمانی کو خط لکھ کر نشی کانت دوبے کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کرنے کی اجازت مانگی۔

17 اپریل کو سابق چیف الیکشن کمشنر قریشی نے ایک 'X' پوسٹ میں لکھا تھا، ’’یہ وقف قانون یقینی طور پر مسلمانوں کی زمین ہڑپنے کی حکومت کی ایک بہت ہی بری سازش ہے۔ مجھے پورا یقین ہے کہ سپریم کورٹ اسے غلط قرار دے گی۔ شرارتی پروپیگنڈہ مشینری نے بھی غلط معلومات پھیلا کر اپنا کام اچھے سے کر دیا ہے۔‘‘

بی جے پی نے دوبے کے بیان سے خود کو الگ کر لیا ہے۔ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہاکہ  بھارتیہ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ نشی کانت دوبے اور دنیش شرما کے عدلیہ اور ملک کے چیف جسٹس کے بارے میں دیے گئے بیانات سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

کانگریس کے رکن پارلیمنٹ مانیکم ٹیگور نے نشی کانت دوبے کے سپریم کورٹ کے بیان کو توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ پر ان کا حملہ قابل قبول نہیں ہے۔ یہ سپریم کورٹ کے خلاف توہین آمیز بیان ہے۔ نشی کانت دوبے ایک ایسا شخص ہے جو دوسرے تمام اداروں پر مسلسل حملے کرتا رہتا ہے۔ اب اس نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا ہے۔ سپریم کورٹ پر ان کا حملہ قابل قبول نہیں ہے۔

وقف ترمیمی بل پر مشترکہ کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی لیڈر جگدمبیکا پال کی ہے، نے اپوزیشن لیڈروں کے اعتراضات کے بعد مسودہ قانون پر بحث کو اگلے ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے۔ کمیٹی پیر کو بل پر تفصیلی غور کرے گی۔ میرواعظ کے علاوہ کمیٹی جمعہ کو لائرز فار جسٹس گروپ کے خیالات بھی سنے گی۔

مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے بھی زکربرگ کے بیان کی تردید کی تھی۔ اشونی ویشنو نے کہا تھا کہ زکربرگ اپنی کمپنی فیس بک کے ذریعے غلط معلومات پھیلا رہے ہیں۔ غلط معلومات دیکھ کر مایوسی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں حقائق اور اعتبار کو برقرار رکھنا چاہیے۔