Urdu Conclave 2026

Nagpur Violence: ’’ہمت ہے تو اورنگ زیب کی قبر ہٹا کر دکھائیں…‘‘، ناگپور تشدد پر کانگریس کے اس بڑے لیڈر نے سی ایم فڑنویس کو کیا چیلنج

کانگریس لیڈر حسین دلوئی نے کہا کہ ناگپور میں احتجاج کی کیا ضرورت تھی۔ یہ صرف لوگوں کی توجہ اصل مدعے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔ دوسری طرف جس طرح چادر کو جلایا گیا۔ اس سے میرے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا، اگر پولیس ان کو پہلے اندر کر دیتی تو یہ تشدد نہیں ہوتا۔

ناگپور تشدد پر حسین دلوئی نے سی ایم فڑنویس کو کیا چیلنج

ممبئی: کانگریس لیڈر حسین دلوئی نے ناگپور تشدد پر مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندر فڑنویس کو سخت نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ فڑنویس کو خبردار کیا ہے کہ اگر ان میں ہمت ہے تو مغل حکمران اورنگ زیب کی قبر کو ہٹا کر دکھائیں۔

’’فڑنویس کے بیان سے مسلمانوں کے خلاف ماحول بنا‘‘

جمعہ کے روز نیوز ایجنسی آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کانگریس لیڈر حسین دلوئی نے کہا کہ ہمارے ریاستی صدر نے ایک کمیٹی بنائی ہے، جس میں میں بھی شامل ہوں۔ ہم وہاں جائیں گے اور عوام کے سامنے سچ لائیں گے۔ لیکن ناگپور میں تشدد کیوں ہوا؟ اس کے پیچھے آپ دیکھیں گے کہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے جس طرح اورنگ زیب کی قبر کو ہٹانے کے بارے میں بیانات دیے تھے۔ ان کے بیانات نے مسلمانوں کے خلاف ایک ماحول تیار کیا۔

’’ہمت ہے تو اورنگ زیب کی قبر ہٹا ئیں‘‘

انہوں نے کہا کہ اورنگ زیب کا مقبرہ اورنگ آباد میں ہے۔ ناگپور میں احتجاج کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اگر دیویندر فڑنویس میں ہمت ہے تو اورنگ زیب کی قبر کو ہٹا ئیں۔ اورنگ زیب کی قبر کا یہاں رہنے سے ہماری تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ اورنگ زیب مرنے کے لیے دہلی جانا چاہتا تھا، لیکن وہ نہیں جا پایا۔ ہمارے مراٹھا سماج کی تاریخ اس سے جڑی ہوئی ہے کہ کس طرح ہمارے مراٹھا سماج کے بہادر جنگجوؤں نے اورنگ زیب کو یہاں گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔

’’چادر جلانے سے جذبات کو ٹھیس پہنچی‘‘

کانگریس لیڈر حسین دلوئی نے کہا کہ ناگپور میں احتجاج کی کیا ضرورت تھی۔ یہ صرف لوگوں کی توجہ اصل مدعے سے ہٹانے کی کوشش ہے۔ دوسری طرف جس طرح چادر کو جلایا گیا۔ اس سے میرے جذبات کو بھی ٹھیس پہنچی۔ جن لوگوں نے یہ کام کیا، اگر پولیس ان کو پہلے اندر کر دیتی تو یہ تشدد نہیں ہوتا۔

’’فہیم خان کون کی جانچ ہونی چاہیے‘‘

دلوئی نے کہا کہ مسلمانوں سے بھی غلطی ہوئی ہے۔ انہیں پولیس والوں پر حملہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ خواتین کارکنوں پر حملہ قابل مذمت ہے۔ میں تشدد کے خلاف ہوں۔ ہمارے لیڈر گاندھی جی ہیں۔ مسلمان عدم تشدد کے ذریعے احتجاج کر سکتے تھے۔ لیکن، انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے پاس قیادت کی کمی ہے اور بی جے پی اور آر ایس ایس والے ایسے مدعوں کو جان بوجھ کر آپ کے سامنے اٹھاتے ہیں، جس سے آپ بھڑک جاتے ہیں۔ مسلمانوں میں بھی کچھ ایسے ہیں جو بی جے پی-آر ایس ایس کی مدد کرتے ہیں۔ یہ فہیم خان کون ہے؟ اس کی بھی جانچ ہونی چاہیے۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read