ہندوستانی ریسرچر بدر خان سوری
Badar Khan Suri Deportation blocked: ہندوستان کے رہنے والے بدر خان سوری امریکہ کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں ریسرچر ہیں۔ انہیں پیر (17 مارچ) کے روز گرفتار کر لیا گیا تھا۔ حماس کا پروپیگنڈہ پھیلانے کے الزام میں انہیں ان کے گھر سے اٹھا لیا گیا تھا۔ ان کے ڈیپورٹیشن کی تیاریاں بھی چل رہی تھیں لیکن اس سے پہلے ہی امریکی عدالت نے اس ڈیپورٹیشن پر روک لگا دی۔
ورجینیا کورٹ کے ایسٹرن ڈسٹرکٹ کی جج پیٹریشیا ٹولیور جائلز نے جمعرات کی شام حکم دیا کہ بدر خان سوری کو اس وقت تک امریکہ سے ڈی پورٹ نہیں کیا جائے گا جب تک کہ عدالت اس کے برعکس کوئی حکم جاری نہیں کرتی۔
سوری کے وکیل نے ان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ انہوں نے گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اسے عوام کی آواز کو دبانے یا محدود کرنے کی کوشش قرار دیا۔ وکیل نے عدالت میں داخل کیے گئے دستاویز میں یہ بھی دلیل دی کہ نہ تو سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو اور نہ ہی کسی دوسرے سرکاری اہلکار نے الزام لگایا کہ سوری نے کوئی جرم کیا ہے یا حقیقت میں کوئی قانون توڑا ہے۔
’یہ واضح طور پر غیر آئینی ہے‘
امریکن سول لبرٹیز یونین (ACLU) نے بھی سوری کی ملک بدری کو روکنے کے لیے ایک ہنگامی تحریک دائر کی۔ ACLU کی اٹارنی صوفیہ گریگ نے کہا کہ “کسی کو ان کے گھر اور خاندان سے الگ کر دینا، ان کی امیگریشن کی حیثیت کو ختم کر دینا، اور انہیں مکمل طور پر ان کے سیاسی نظریات کی بنیاد پر حراست میں لینا صدر ٹرمپ کی طرف سے اختلاف رائے کو دبانے کی واضح کوشش ہے۔ یہ واضح طور پر غیر آئینی ہے۔
یونیورسٹی نے کیا کہا؟
جارج ٹاؤن یونیورسٹی نے بھی اس معاملے میں سوری کی حمایت کرتے ہوئے ایک بیان جاری کیا۔ بیان میں لکھا گیا، ’’ڈاکٹر خان سوری ایک ہندوستانی شہری ہیں، جنہیں عراق اور افغانستان میں قیام امن پر اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق جاری رکھنے کے لیے امریکہ آنے کے لیے قواعد کے مطابق ویزا دیا گیا تھا۔ ہمیں ان کے کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کی کوئی جانکاری نہیں ہے۔ ہمیں ان کی حراست کی کوئی وجہ نہیں ملی ہے۔
حماس پر پروپیگنڈا پھیلانے کا الزام
بدر خان سوری کو ورجینیا کے شہر آرلنگٹن میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ہوم لینڈ سیکورٹی ڈیپارٹمنٹ کی ترجمان ٹریسیا میک لافلن نے ایکس پر لکھا کہ سوری جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں فارن ایکسچینج کا طالب علم تھے جو فعال طور پر حماس کو پروپیگیٹ کر رہے تھے اور سوشل میڈیا پر یہود دشمنی کو فروغ دے رہے تھے۔ میک لافلن نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ایک مشتبہ دہشت گرد سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں جو حماس کا ایک سینئر مشیر ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ محکمہ خارجہ نے فیصلہ کیا ہے کہ محقق کو اب امیگریشن قانون کی ایک شق کے تحت ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
سوری دوسرے ہندوستانی ہیں جنہیں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فلسطین حامی احتجاج کے خلاف مہم میں شامل کیا گیا ہے جو امریکہ کی متعدد یونیورسٹیوں میں ہوئے ہیں۔ کچھ معاملات میں، مظاہرے یہود مخالف اور حماس کی حمایت میں بدل گئے۔
نیویارک کی کولمبیا یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کی طالبہ رنجنی سری نواسن اس ماہ کے شروع میں کینیڈا چلی گئیں۔ انہیں بھی امیگریشن حکام نے یہ بتایا کہ ان کا اسٹوڈنٹ ویزا کینسل کر دیا گیا ہے اور وہ ان کی تلاش کر رہے ہیں۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ سے کی ہے پی ایچ ڈی
سوری نے نئی دہلی کی جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور وہ واشنگٹن کی جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو تھے، جہاں انہوں نے ’جنوبی ایشیا میں اکثریت پسندی اور اقلیتی حقوق‘ پر ایک کورس کرایا۔
یونیورسٹی کی ویب سائٹ کے مطابق سوری کی اہلیہ، مفیز صالح، جو عرب اسٹڈیز میں ماسٹرز کر رہی ہیں، نے ’غزہ میں وزارت خارجہ کے لیے کام کیا ہے اور مڈل ایسٹ مانیٹر، قطر سرکار کے ٹی وی نیٹ ورک الجزیرہ اور فلسطینی میڈیا کے لیے لکھا ہے۔
جامعہ کی طالبہ رہ چکی ہیں مفیز صالح
جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے مطابق امریکی شہری مفیز صالح نے جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی ہے اور وہ نئی دہلی میں قطر کے سفارت خانے میں کام کر چکی ہیں۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔
