جے این یو طلبہ یونین کے سابق صدر اور کانگریس لیڈر کنہیا کمار بہار اسمبلی انتخابات 2025 سے عین قبل اچانک سرخیوں میں آگئے ہیں۔ کنہیا کمار نے 16 مارچ سے بہار میں ‘نوکری دو،پلائن روکو’ یاترا شروع کی ہے۔ کنہیا کمار کی یہ یاترا 4 ہفتوں میں 20 اضلاع سے ہوتے ہوئے 14 اپریل کو پٹنہ پہنچے گی۔ لیکن، بڑا سوال یہ ہے کہ 2024 کے لوک سبھا انتخابات میں دہلی کی شمال مشرقی سیٹ سے الیکشن لڑنے والے کنہیا کمار کو اچانک بہار میں کیوں اتارا گیا؟ کنہیا کمار کے ذریعے کیا کانگریس بہار میں مہا گٹھ بندھن میں اپنی طاقت دکھانا چاہتی ہے؟ کیا کنہیا کمار بہار کانگریس کو مضبوط کریں گے؟ کیا کانگریس کنہیا کمار کو بہار کا ریونتھ ریڈی بنانا چاہتی ہے؟ یا کنہیا کمار کے ذریعے کانگریس پارٹی بہار میں بی جے پی کی بنیادی ووٹر بھومیہار ذات پر قبضہ جمانا چاہتی ہے؟ یا کانگریس پارٹی نے کنہیا کمار کو اپنی صلاحیتیں دکھانے کا آخری موقع دیا ہے؟
Day-1
आज बिहार के विद्यार्थियों और नौजवानों ने NSUI और IYC के नेतृत्व में भीतिहरवा गाँधी आश्रम, चंपारण से “पलायन रोको-नौकरी दो” यात्रा की शुरुआत किया है। इस यात्रा का उद्देश्य सबको शिक्षा, सबको काम, हर बिहारी को बराबर का आत्मसम्मान दिलाना है।
जय हिन्द-जय बिहार !! pic.twitter.com/QRrQMiEVhX
— Kanhaiya Kumar (@kanhaiyakumar) March 16, 2025
جے این یو تنازعہ کے بعد بی جے پی بار بار کنہیا کمار پر غدار ہونے کا الزام لگا تی رہی ہے۔ تاہم کنہیا کمار کئی مواقع پر کہہ چکے ہیں کہ حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے سنگھی ہونا ضروری نہیں ہے؟ کنہیا کمار کو کئی ٹی وی مباحثوں میں بی جے پی لیڈروں کے ساتھ گرما گرم بحث کرتے بھی دیکھا جاتا ہے۔ ایسے میں بہار انتخابات سے عین قبل کنہیا کمار کو میدان میں اتار کر کانگریس نے نہ صرف آر جے ڈی کو چوکنا کردیا ہے بلکہ وہ بی جے پی کے بنیادی ووٹر بھومیہار ذات پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔ کنہیا کا تعلق بھی بھومیہار ذات سے ہے اور کہا جاتا ہے کہ جس پارٹی کو بھی اس پارٹی کے ووٹ ملتے ہیں، بہار میں حکومت اسی پارٹی کی بنتی ہے۔
کنہیا کمار کی “اگنی پریکشا”
بہار کی سیاست پر لکھنے والے صحافی منیش کمار کہتے ہیں کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ کنہیا کمار ایک اچھے مقرر ہیں۔ نوجوانوں کے ایک حصے میں کنہیا کمار کی ایک الگ پہچان ہے۔ اگر کانگریس کنہیا کمار کو گرینڈ الائنس کی طرف سے وزیر اعلیٰ یا نائب وزیر اعلیٰ کا امیدوار قرار دیتی ہے تو کانگریس پورے بہار میں بھومیہار برادری کے ووٹ بی جے پی سے توڑنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ پلائن روکو اور نوکری دو یاترا کا زیادہ اثر نہیں ہونے والا ہے۔ ہاں بہار انتخابات سے پہلے میڈیا میں کچھ ماحول ضرور بنے گا۔
کیا بی جے پی کے بھومیہار ووٹ بینک میں کمی آئے گی؟
اس یاترا کے ذریعے کانگریس نے آئندہ بہار اسمبلی انتخابات کی تیاری شروع کر دی ہے۔ حالانکہ خود کانگریس کے اندر کنہیا کمار کے اس یاترا کی مخالفت ہو رہی ہے۔ بہار کانگریس کے صدر اکھلیش پرساد سنگھ نے کہاکہ کنہیا کمار اس یاترا کی قیادت نہیں کر رہے ہیں۔ یہ ہمارے لیڈر راہل گاندھی کی سوچ ہے اور کنہیا ان کی سوچ کو آگے لے جا رہے ہیں۔ کیونکہ وہ بھی نوجوان ہے۔
کیا کہتے ہیں کانگریس لیڈر؟
ساتھ ہی کانگریس کے نظریہ سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ پارٹی نے صحیح وقت پر صحیح فیصلہ لیا ہے۔ اب بہار میں کنہیا کمار کے آنے سے مزہ آئے گا۔ کانگریس سے وابستہ متھیلیش کمار مشرا کا کہنا ہے کہ کنہیا کی اس یاترا کے ذریعے کانگریس پارٹی کو نئی توانائی ملی ہے۔ اس سے بہار کی سیاست میں بھونچال آنے والا ہے۔ کنہیا بہار کی سیاست کا ابھرتا ہوا ستارہ ہے۔ ان کے پاس کانگریس کو کھڑا رکھنے کی طاقت ہے۔ بہار میں کانگریس کو دوبارہ قائم کرنے کی طاقت صرف کنہیا کے پاس ہے۔
کنہیا کے گاؤں کے لوگ کیا کہتے ہیں؟
وہیں، کنہیا کمار کے اپنے گاؤں بیہت کے رہنے والے منوج کمار کہتے ہیں کہ اپنے پرانے نظریے کے حامی نہ ہونے کے باوجود، میں مانتا ہوں کہ کنہیا کی موجودگی ہندوستانی جمہوریت کے لیے اہم ہے۔ جے این یو میں مبینہ ملک مخالف نعرے لگانے سے پہلے کنہیا کو کوئی نہیں جانتا تھا اور نہ ہی پہچانتا تھا۔ میڈیا نے اسے بڑا بنا دیا۔ آج کے وقت میں، کانگریس کا مطلب نچلی ذات کا شخص جھنڈا اٹھائے اور بھومیہار لیڈر بنے۔ اکھلیش سنگھ اور کنہیا کمار بھومیہار ذات کے ووٹوں کو عظیم اتحاد میں منتقل نہیں کر سکتے۔ ان کی ذات کے لوگ بی جے پی کے حامی ہیں۔ پھر بھی یہ دونوں بہار میں کانگریس کے لیڈر ہیں۔ دلت، پسماندہ، انتہائی پسماندہ اور اقلیتیں کانگریس میں صرف پانی بانٹنے،دری پھیلانے اور پلیٹیں اٹھانے کے لیے ہیں۔
بہار کانگریس کے نئے انچارج کرشنا الوارو نے کنہیا کمار کے ذریعے پارٹی کو ریاست میں راشٹریہ جنتا دل کے کٹھ پتلی ہونے کے ٹیگ سے آزاد کرنے کا عمل شروع کیا ہے۔ تاہم کانگریس کے لیے یہ جتنا مشکل ہے، کنہیا کمار کی مستقبل کی سیاست کے لیے بھی اتنا ہی اہم ہے۔ کیونکہ اگر کنہیا کمار بہار میں ناکام ہو جاتے ہیں تو ان کا سیاسی کیریئر سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔ اس لیے بہار میں کانگریس کے لیے اپنا پرانا میدان دوبارہ حاصل کرنا جتنا ضروری ہے، کنہیا کمار کی کارکردگی بھی اتنی ہی اہم ہے۔ تاہم کنہیا کمار کا یہ دورہ تیجسوی یادو کے لیے نہ صرف تناؤ کا باعث بنے گا بلکہ کانگریس کے پرانے لیڈروں کو بھی ان سے پریشانی ہوگی۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔


