پاکستان کی مسجد میں دھماکہ ہوا ہے، جس میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
Pakistan Bomb Blast: رمضان کے مقدس مہینے سے پہلے جمعہ (28 فروری، 2025) کو شمال-مغربی پاکستان کے خیبر پختونخوا صوبہ میں طالبان کے حامیوں کے زیرانتظام ایک مسجد میں دھماکہ ہوا۔ مدرسہ جامعہ حقانیہ میں ہوئے بم دھماکہ میں پانچ افراد کی موت ہوگئی اورکئی دیگرزخمی ہوگئے۔
علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی
نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹیڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق، ضلع پولیس سربراہ عبدالرشید نے بتایا کہ یہ دھماکہ خیبر پختونخوا صوبہ کے اکّورا کھٹک ضلع میں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ افسراس کی جانچ کررہے ہیں اورساتھ ہی زخمیوں کواسپتال پہنچایا جا رہا ہے۔ ابھی تک کسی تنظیم نے اس حملے کی ذمہ داری نہیں لی ہے۔ یہ دھماکہ مدرسہ کے اہم حال میں جمعہ کی نمازکے دوران ہوا۔ ڈان کی رپورٹ کے مطابق، افسران نے اس علاقے میں ایمرجنسی کا اعلان کردیا ہے۔
پولیس نے خود کش دھماکہ بتایا
جامعہ حقانیہ کے اندرجہاں یہ دھماکہ ہوا، اس احاطے میں تقریباً 4,000 طلبا رہتے ہیں، جنہیں مفت کھانا اورتعلیم دی جاتی ہے۔ پاکستانی سماء ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، کے پی کے آئی جی ذوالفقارحمید نے کہا کہ ابتدائی جانچ کے مطابق یہ ایک خود کش دھماکہ معلوم ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا حمید الحق حقانی نشانے پرتھے۔
پاکستانی حکومت نے حادثے کی مذمت کی
پاکستان حکومت کے داخلی وزیرمحسن نقوی نے ایکس پرپوسٹ کرکے اس حادثہ کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ملک پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی سازش کررہا ہے۔ ہم دشمن کی ہرسازش کوناکام کردیں گے۔ ہم مہلوک کے اہل خانہ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انہوں نے مولانا حمید الحق حقانی اوردیگرزخمیوں کے صحتیاب ہونے کی دعا کی۔ خیبرپختونخوا صوبہ میں ہوئے بم دھماکہ سے متعلق پاکستان کے وزیر اعظم شہبازشریف نے کہا کہ اس طرح کی دہشت گردی کی بزدلانہ کارروائی دہشت گردی کے خلاف ہمارے عزائم کو کمزور نہیں کرسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ملک سے دہشت گردی کے سبھی فارمیٹ کو پوری طرح سے مٹانے کے لئے پابند عہد ہیں۔
بھارت ایکسپریس اردو۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



