Bharat Express DD Free Dish

ورشپ ایکٹ معاملے پر مرکزی حکومت نے نہیں دیا جواب، نئی عرضیاں داخل، چیف جسٹس ہوئے برہم، کہی یہ بڑی بات

چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ گزشتہ سماعت میں کئی مداخلتی درخواستوں کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب نہیں۔ اس طرح تو سماعت کرنا مشکل ہوجائے گا۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے پیر (17 فروری، 2025) کو ورشپ ایکٹ (خصوصی التزام) ایکٹ، 1991 کے قانونی جواز سے متعلق عبادت (خصوصی دفعات) ایکٹ، 1991 کی درستگی سے متعلق کیس میں کئی نئی درخواستیں داخل کرنے پربرہمی کا اظہارکیا۔ عدالت نے کہا کہ مرکزکی طرف سے ابھی تک جواب داخل نہیں کیا گیا ہے اور نئی درخواستیں آرہی ہیں۔

باراینڈ بینچ کی رپورٹ کے مطابق، عدالت کا کہنا ہے کہ زیرالتوا عرضیوں پر پہلے سے نوٹس جاری کیا جاچک ہے اور مرکزکے جواب کا انتظار ہے۔ ایڈوکیٹ وکاس سنگھ اورایڈوکیٹ نظام پاشا کی عرضیوں پر عدالت نے یہ بات کہی۔ دونوں وکلاء نے مرکزی حکومت پر سوال اٹھائے تھے کہ 8 تاریخیں گزر چکی ہیں اور مرکز کی طرف سے کوئی کاؤنٹر (جواب) داخل نہیں کیا گیا ہے۔ اس پر عدالت نے بھی رضا مندی ظاہرکی اور کہا کہ ہاں اب تک کاؤنٹر فائل نہیں ہوا ہے اور نئے اعتراضات کے ساتھ نئی نئی عرضیاں بھی آرہی ہیں۔

ایک مدعی کی طرف سے جب سینئر ایڈوکیٹ اندرا جے سنگھ پیش ہوئے، دن کے وقت سماعت کے لیے ایک نئی درخواست کا ذکر کیا، تو چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے کہا، “ہو سکتا ہے ہم اسے سننے کے قابل نہ ہوں۔” ایڈوکیٹ اندرا جے سنگھ نے اس کیس کا تذکرہ کیا جب عدالتی کارروائی شروع ہوئی۔ تاہم عدالت نے اس بنیاد پردرخواست دائرکرنے کی اجازت دی ہے کہ نئی درخواستوں کی قانونی بنیاد مختلف ہونی چاہئے جو کہ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عرضیاں داخل کرنے کی ایک مدت ہوتی ہے۔ بہت سارے آئی اے (عبوری درخواستیں) داخل کی گئی ہیں۔ ہم شاید اس پر سماعت نہیں کرپائیں۔ انہوں نے کہا کہ مارچ میں ایک تاریخ دی جاسکتی ہے۔

چیف جسٹس سنجیوکھنہ نے کہا کہ گزشتہ بارکئی مداخلتی درخواستوں کواجازت دی گئی تھی۔ سماعت کے دوران پیش ہوئے ایک اورسینئر ایڈوکیٹ دشینت نے کہا کہ ہاں اب اورنئی عرضیوں کو اجازت نہیں دی جانی چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایکٹ کو چیلنج دینے والی وہ عرضیاں خارج کی جاتی ہیں، جن میں ابھی تک کوئی نوٹس جاری نہیں کیا گیا ہے۔ یہ عرضیاں موجودہ عرضیوں میں درخواست دے سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ درخوستیں نئی بنیاد پرہوں۔

بھارت ایکسپریس اردو۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read