Bharat Express DD Free Dish

Places of Worship Act 1991

یہ کیس نہ صرف گیان واپی مسجد کے مستقبل بلکہ ملک میں مذہبی مقامات سے متعلق قانونی اور سماجی بحث کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت کے سامنے سوال یہ ہے کہ کیا 1991 کے ورشپ  ایکٹ کے تحت اس طرح کے سروے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ نے اہم فیصلہ صادرکرتے ہوئے پچھلی سماعت پردیئے گئے اسٹے میں توسیع کردی، اس کے ساتھ ہی عدالت نے تازہ عرضداشتوں پرنوٹس جاری کرنے کی بجائے انہیں بطورمداخلت کاردرخواست داخل کرنے کی ہدایت دی۔

چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے کہا کہ گزشتہ سماعت میں کئی مداخلتی درخواستوں کی اجازت دی گئی تھی، لیکن اب نہیں۔ اس طرح تو سماعت کرنا مشکل ہوجائے گا۔

اقرا حسن نے اپنی درخواست میں کہا کہ عبادت گاہوں سے متعلق(پلیسز آف ورشپ ایکٹ)  1991 کی دفعات کو نظر انداز کرنا ناانصافی ہوگی۔

سپریم کورٹ دوسری عرضیوں کوسنتے ہوئے 12 دسمبرکو عبوری حکم جاری کرچکا ہے۔ اس حکم میں پورے ملک کی عدالتوں سے فی الحال مذہبی مقامات کے سروے کا حکم نہ دینے کوکہا گیا تھا۔

مرکزی وزیر نے عبادت گاہوں کے ایکٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ زیر سماعت ہے لیکن اگر سپریم کورٹ مرکز سے حلف نامہ داخل کرنے کو کہتی ہے، تو مرکز ’’قومی مفاد‘‘ میں ایک حلف نامہ داخل کرے گا۔

واضح رہے کہ 12دسمبر کو سپریم کورٹ نے ملک بھر میں مذہبی مقامات سے متعلق نئے مقدمات درج کرنے پر پابندی لگا دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ زیر التوا مقدمات کی سماعت جاری رہ سکتی ہے۔ لیکن نچلی عدالتوں کو کوئی موثر یا حتمی حکم نہیں دینا چاہیے۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے اپنی عرضی میں کہا ہے کہ پلیسیزآف ورشپ ایکٹ 1991 کومنسوخ نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسے منسوخ کرنے سے ملک کا ماحول خراب ہوگا۔

مولانا محمودمدنی نے کہا کہ مسجد-مندرتلاش کرنے والے اس ملک کی یک جہتی اوراتحاد کے دشمن ہیں۔ جبکہ ہمارا مقصد اس ملک میں امن و امان کا تحفظ کرنا ہے۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے عبادت گاہوں کے قانون سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ مدنی نے کہا کہ اس سے بدامنی پھیلانے والوں کو روکا جائے گا۔