دہلی کے کئی اسکولوں میں جمعہ 13 دسمبر کی صبح ایک بار پھر دھمکی آمیز ای میلز آیا ہے۔ ای میل کی اطلاع دہلی پولیس اور فائر ڈپارٹمنٹ کو دی گئی، جس کے بعد فوری طور پر تحقیقات شروع ہوگئی۔ تفتیش میں اب تک کوئی مشکوک چیز نہیں ملی ہے۔ جن اسکولوں کو بم کی دھمکیاں ملی ہیں ،ان میں ایسٹ آف کیلاش ڈی پی ایس، سلوان اسکول، ماڈرن اسکول اور کیمبرج اسکول شامل ہیں۔
دہلی کے اسکولوں میں بم کی دھمکیوں کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ ہر روز کوئی نہ کوئی نامعلوم شخص ای میل یا کال کے ذریعے اسکول انتظامیہ کو بم کی اطلاع دیتا ہے اور خوف و ہراس کا ماحول پیدا کر دیا جاتا ہے۔ گزشتہ پیر 9 دسمبرکو بھی دہلی کے تقریباً 40 اسکولوں کو بم کی دھمکی دی گئی تھی۔ یہ دھمکی بھی ای میل کے ذریعے آئی۔ چونکہ پیر کی صبح تھی، بچے پہلے ہی کلاس میں جانے کے لیے پہنچ چکے تھے۔ ای میل موصول ہوتے ہی اسکول انتظامیہ نے فوری طور پر والدین کو اطلاع دی اور تمام بچوں کو گھر واپس بھیج دیا گیا۔
اب تک بم کی دھمکیاں جھوٹی نکلی ہیں
اس دوران بھی پولیس کی کئی ٹیمیں تشکیل دی گئیں ،جنہوں نے ہر اسکول کے کونے کونے کو چیک کیا لیکن کوئی مشکوک چیز نہیں ملی۔ دہلی میں اسکولوں، ہوائی اڈوں، پروازوں، ہوٹلوں، مال وغیرہ کے خلاف ہر روز ملنے والی یہ دھمکیاں اب تک جھوٹی ثابت ہوئی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سکیورٹی ادارے ان خطرات کو ہلکے سے لینے کی غلطی نہیں کر سکتے۔
آخری بار تاوان کا مطالبہ کیا گیا تھا
پیر 9 دسمبر کو دھمکی آمیز ای میل بھیجنے والے شخص نے 3 ہزار امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا۔ یہ بھی لکھا تھا کہ بم اتنے چھوٹے تھے کہ تفتیش کے دوران نہیں ملیں گے۔ اگر اس کا مطالبہ پورا نہ ہوا تووہ اسکولوں کو بم دھماکے سے اڑا دے گا۔
آپ کو بتاتے چلیں کہ اس سے پہلے دہلی کے کئی اسکولوں کو بم کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ ہر بار پولیس کی ٹیم، بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ اسکولوں کی تلاشی لیتی ہے اور بعد میں اسے افواہ قرار دے دیا جاتا ہے۔
بھارت ایکسپریس
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

