پرتگال نے فلسطین اتھارٹی کو منظوری دینے کا اعلان کیا ہے۔
Israel-Palestine War: ہندوستان نے اسرائیل اور فلسطین سے متعلق بڑا بیان دیا ہے، جسے اسرائیل کے لئے ایک جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ دراصل، ہندوستان نے اقوام متحدہ میں اسرائیل اور فلسطین کے لئے 2 ریاستی حل کی حمایت کی ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک میٹنگ میں بی جے پی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے کہا کہ ہندوستان دو ریاستی حل کی حمایت کرنے کے لئے پابند عہد ہے، جہاں فلسطین کے لوگ محفوظ سرحد کے اندر ایک جمہوری ملک میں رہ سکیں گے۔ انہوں نے اقوام متحدہ میں فلسطین کی درخواست پر ازسر نوغورکرنے کی بات کہی۔
ہندوستان کے اس قدم کواسرائیل کے لئے جھٹکے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ اسرائیل کے وزیراعظم فلسطینی ریاست کو خطرے کے طور پر دیکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ فلسطین نے گزشتہ دنوں یو این کی رکنیت کے لئے درخواست دی تھی، جو امریکہ کے ویٹو کے سبب منظور نہیں ہوسکا تھا۔ روچیرا کمبوج نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ مناسب وقت پر اس پر ازسر نو غور کیا جائے گا اور اقوام متحدہ کا رکن بننے کی فلسطینی کوشش کو حمایت ملے گی۔
ہندوستان نے حماس پر بھی کی تنقید
میٹنگ کے دوران ہندوستان کی مستقل نمائندہ روچیرا کمبوج نے حماس کی بھی مذمت کی۔ 7 اکتوبر، 2023 کو اسرائیل کے اوپر حماس نے حملہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کو صحیح نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف ہندوستان ہمیشہ رہا ہے۔ ہم سبھی یرغمالیوں کو بلا شرط رہائی کا مطالبہ بھی کرتے ہیں۔ ہندوستان کی مستقل نمائندہ نے غزہ میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی قوانین پرعمل کرنے کو کہا۔
فلسطین کی آگے بھی کرتے رہیں گے مدد
بات چیت کے دوران روچیرا کمبوج نے غزہ میں لوگوں کے لئے امداد بڑھانے کو بھی کہا۔ انہوں نے کہا کہ صورتحال سدھارنے کے لئے لوگوں کا تعاون کرنا ضروری ہے۔ غزہ کے لوگوں کی انسانی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے سبھی سے ساتھ آنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سے متعلق اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری کی کوشش کا استقبال کرتے ہیں۔ ہندوستان نے فلسطین کے لوگوں کو انسانی امداد فراہم کی ہے اور آگے بھی کرتا رہے گا۔
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔



