بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی لڈمر تجسو ی۔
پٹنہ: تیجسوی یادو نے بہار میں ووٹروں کی گنتی کے فارم سے متعلق الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار کو مسترد کر دیا ہے۔ بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے اتوار کو پٹنہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران الیکشن کمیشن آف انڈیا پر سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کا ڈیٹا صرف اپ لوڈ ہونے کا پتہ چلتا ہے، جب کہ صداقت اور درستگی کی گارنٹی نہیں دی گئی ہے۔
’’الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار زمینی حقیقت کے بالکل برعکس ‘‘
تیجسوی یادو نے کہا، ’’الیکشن کمیشن نے گنتی کے 80.11 فیصد فارموں کو بھرنے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن یہ نہیں بتایا کہ کتنے فارم تصدیق شدہ، خود سے اور جائز طریقے سے بھرے گئے ہیں۔ ہمیں یہ اطلاع مل رہی ہے کہ ووٹر کے علم میں لائے بغیر BLOs کی طرف سے فرضی دستخط یا انگوٹھا لگا کر کے فارم بھرے جا رہے ہیں۔ اس لیے الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار زمینی حقیقت کے بالکل برعکس ہیں۔‘‘
’’زمینی سطح پر بی ایل او اور ووٹر دونوں ہی کنفیوژن کا شکار ‘‘
آر جے ڈی لیڈر نے سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’الیکشن کمیشن کی پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ دستاویزات بعد میں دیے جا سکتے ہیں، لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی واضح حکم یا ایس او پی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کے مشورے کے باوجود الیکشن کمیشن نے کوئی باضابطہ نظر ثانی شدہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا ہے، جس کی وجہ سے زمینی سطح پر بی ایل او اور ووٹر دونوں ہی کنفیوژن کا شکار ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’الیکشن کمیشن نے یہ بھی نہیں بتایا کہ ووٹر کی دستاویزات کے بغیر کتنے فارم اپ لوڈ کیے گئے، فرضی فارم اپ لوڈ ہونے کے واقعات پر الیکشن کمیشن خاموش ہے۔‘‘
’’بوتھ کے اعداد و شمار کے حساب سے پہلے ہی ہو چکی ہے جوڑ توڑ ‘‘
تیجسوی نے الزام لگایا کہ کئی اضلاع میں اپوزیشن جماعتوں کے بی ایل او کو الیکشن کمیشن نے ابھی تک مطلع نہیں کیا ہے۔ انہیں اس عمل میں فعال طور پر حصہ لینے سے روک دیا گیا ہے۔ یہ پوری مہم غیر شفاف ہے۔ انہوں نے کہا، ’’الیکشن کمیشن کا یہ ایس آئی آر عمل محض دکھاوا ہے۔ بی جے پی کے حکم پر بوتھ کے اعداد و شمار کے حساب سے پہلے ہی جوڑ توڑ کر لی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن بی جے پی کے کہنے پر کام کر رہا ہے۔ یہ عمل صرف دکھاوے کے لیے ہے۔‘‘
ذرائع کےحوالہ سے خبر پلانٹ کروا رہا ہے الیکشن کمیشن: تیجسوی
پریس کانفرنس میں تیجسوی یادو سے خصوصی گہرائی کے جائزے کے دوران مبینہ طور پر بڑی تعداد میں ملے نیپا، بنگلہ دیش اور میانمار کے لوگوں پر سوال پوچھا گیا۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا، ’’خود سامنے آنے کے بجائے الیکشن کمیشن ذرائع کے حوالہ سے خبر پلانٹ کروا رہا ہے تاکہ اس کی آڑ میں کھیلا کر سکے، یہ وہی ذرائع ہیں جو آپریشن سندورکے دوران اسلام آباد، لاہور اور کراچی پر قبضہ کر چکے تھے۔‘‘
بھارت ایکسپریس۔
بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔




