Bharat Express DD Free Dish

Zeeshan Siddique

بامبے ہائی کورٹ نے این سی پی لیڈر ذیشان صدیقی کی سیکورٹی میں تخفیف پرمہاراشٹر حکومت سے جواب مانگا ہے۔ جان سے مارنے کی دھمکیوں کے باوجود سیکورٹی کم کرنے کے فیصلے پر عدالت نے سوال اٹھائے۔ عدالت نے 10 دنوں میں ریویو کرنے اورحلف داخلہ کرنے کا حکم دیا۔ آئندہ سماعت 26 دسمبرکو ہوگی۔

اگست میں ممبئی پولیس نے بابا صدیقی قتل کیس میں ایک ملزم کو گرفتار کیا تھا۔ ملزم کا نام امول گائیکواڑ بتایا جا رہا ہے۔ کرائم برانچ کے اینٹی ایکسٹورشن سیل نے اسے پونے سے گرفتار کیا تھا۔ اس معاملے میں پولیس نے اب تک 26 ملزمان کو گرفتار کیا ہے۔

شدید گرمی اور تیز ہواؤں کے باعث فائر بریگیڈ کی ٹیم کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی کئی گاڑیاں موقع پر روانہ کردی گئی ہیں اور کوششیں جاری ہیں۔ انتظامیہ نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

بابا صدیقی قتل کیس میں ممبئی پولیس کی تفتیش سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پنجاب میں گرفتار مرکزی ملزم آکاش دیپ گل نے ماسٹر مائنڈ انمول بشنوئی سمیت اہم سازشیوں سے بات چیت کے لیے ایک مزدور کے موبائل ہاٹ سپاٹ کا استعمال کیا۔

ذیشان صدیقی نے اپنے بیان میں کہا کہ میں جس اسمبلی حلقہ باندرہ ایسٹ سے ایم ایل اے تھا، وہاں پر سنت دنیشور نگر کے ترقیاتی پروجیکٹ میں لوگوں کے ساتھ ناانصافی نہ ہو، اس کے لیے میں مسلسل آواز اٹھا رہا تھا اور احتجاج کر رہا تھا۔

غفران خان نے سلمان خان کو جان سے مارنے کی دھمکی دینے کے ساتھ ذیشان صدیقی کو بھی فون کر کے پیسے مانگے تھے۔ ملزم نے رقم نہ دینے پر قتل کرنے کی بات کہی تھی۔ اب ممبئی پولیس کی ٹیم ٹرانزٹ ریمانڈ پر اسے لے کر نوئیڈا سے ممبئی کے لیے روانہ ہوگئی ہے۔

ملزم نے پوچھ گچھ کے دوران پولیس کو بتایا کہ پروین اور شبھم ہی یہ پیشکش لائے تھے۔ پونے میں ان کی کئی بار ملاقاتیں ہوئیں۔ انہیں بتایا گیا کہ کام مکمل ہونے کے بعد بھاری رقم دی جائے گی۔ شیوکمار اس معاملے میں بہت کچھ جانتا ہے۔

ممبئی کے باندرہ میں 12 اکتوبرکی رات این سی پی اجیت پوارگروپ کے سینئرلیڈررہے بابا صدیقی کا گولی مارکرقتل کردیا گیا۔ اس معاملے سے متعلق نئے نئے انکشاف ہو رہے ہیں۔ اب جانکاری سامنے آئی ہے کہ شوٹروں کے نشانے پرصرف بابا صدیقی ہی نہیں بلکہ ان کے بیٹے ذیشان صدیقی بھی تھے۔ انہیں کچھ دن پہلے دھمکی بھی ملی تھی۔ اس بات کا انکشاف پوچھ گچھ میں خود حملہ آوروں نے کیا ہے۔