Bharat Express DD Free Dish

Yusuf Pathan

 ٹی ایم سی کے باغی رکن پارلیمنٹ اورسابق کرکٹر یوسف پٹھان نے وزیراعظم نریندرمودی سے ملاقات کرکے اپنے پارلیمانی حلقہ کی ترقی اورعوام کی پریشانیوں سے متعلق موضوعات پرتبادلہ خیال کیا۔ اس دوران رکن پارلیمنٹ خلیل الرحمٰن اورابوطاہرخان بھی موجود رہے۔

ملاقات کے دوران ایک جذباتی لمحہ بھی سامنے آیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے یوسف پٹھان کے والد کے ساتھ اپنی پرانی ملاقات کو یاد کیا۔ ماضی کی اس ملاقات کا ذکر ہوتے ہی ماحول مزید جذباتی اور دوستانہ ہوگیا۔ یوسف پٹھان کے لیے بھی یہ لمحہ خاص اہمیت کا حامل رہا۔

نیشنل کانفرنس کے رکن پارلیمنٹ آغا سید روح اللہ مہدی نے دعویٰ کیا کہ پارلیمنٹ کے گزشتہ سرمائی اجلاس کے دوران بی جے پی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اچانک وہ اپنی سیٹ پر واپس آگئے تھے۔ اس کے آگے انہوں نے جو کچھ بتایا، وہ معاملہ کافی حیران کن ہے۔

مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں یوسف پٹھان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے ضلع کے لوگوں نے آپ کو بھاری اکثریت سے کامیاب بنایا ہے، تھوڑی شرم کریں اور کچھ ہمت بھی دکھائیں۔‘‘

کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد یوسف پٹھان نے سیاست میں قدم رکھا ہے۔ 2024 میں، انہوں نے ترنمول کانگریس کے ٹکٹ پر مغربی بنگال کی بہرام پور لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑا اور کانگریس کے بڑے لیڈر ادھیر رنجن چودھری کو شکست دے کر پارلیمنٹ پہنچے۔

آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کی صدر ممتا بنرجی کی رہنمائی میں 5 رکنی وفد سری نگر، پونچھ اورراجوری جائے گا۔ اس وفد میں ڈیرک اوبرائن، ندیم الحق، مانس رنجن بھونیا، ساگریکا گھوش اورممتا ٹھاکرہوں گے۔

بھارت نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کا آپریشن سندھور کے ذریعے جواب دیا۔ جس دوران  پاکستان اور پی او کے میں واقع دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں کو تباہ کر دیا تھا۔ جواب میں پاکستان نے جارحانہ رویہ اپناتے ہوئے کئی شہروں پر حملے کرنے کی کوشش کی۔

خطابی مقابلے میں بھارت کو ہلکے میں لیتے ہوئے پاکستان چیمپئنز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 20 اوورز میں 156/6 رنز بنائے۔

پاکستانی ٹیم میں یونس خان، شاہد آفریدی اور شعیب ملک جیسے کھلاڑی موجود ہیں جو میچ جیتنے کی صلاحیتوں کے لیے جانے جاتے ہیں اور اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کے لیے بے تاب ہوں گے۔

یوسف پٹھان کے وکیل نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ کارپوریشن کے مطابق ریاستی حکومت نے 7 جون 2014 کو پلاٹ کی الاٹمنٹ کی منظوری منسوخ کر دی تھی۔ لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے پاس کردہ تحریری حکم کے بارے میں ہمیں ابھی تک مطلع نہیں کیا گیا ہے۔