Bharat Express DD Free Dish

World News

حکومتی فیصلے کے مطابق اس تحقیقات کے دائرے میں سات سابق وزرائے اعظم شامل ہوں گے، جن میں کے پی شرما اولی، پشپ کمل دہل ’پرچنڈ‘، شیر بہادر دیوبا، مادھو کمار نیپال، کھل راج ریگمی، جھل ناتھ کھنال اور بابورام بھٹّ رائی کے نام نمایاں ہیں۔ ان کے علاوہ 100 سے زائد سابق وزراء اور کئی اعلیٰ سرکاری افسران بھی اس بڑے احتسابی عمل کی زد میں آئیں گے۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ”نیوکلیئر ڈسٹ“ یعنی افزودہ یورینیم فراہم کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ امریکی حکام کا ماننا ہے کہ یہ مواد ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال ہو سکتا ہے، جس کی وجہ سے عالمی سطح پر تشویش پائی جاتی رہی ہے۔ ٹرمپ نے اس پیش رفت کو سفارتی کامیابی قرار دیا اور کہا کہ اس سے خطے میں امن کے امکانات روشن ہوئے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ 13 اپریل کو پیش آیا جب چینی کارگو جہاز، جس پر بھاری مقدار میں میتھانول لدا ہوا تھا، آبنائے ہرمز سے گزر کر بحیرہ عمان میں داخل ہو گیا۔ حیران کن طور پر یہ وہی ٹینکر ہے جس پر امریکہ برسوں قبل پابندی عائد کر چکا تھا، اس کے باوجود یہ جہاز ایرانی حدود سے گزرتے ہوئے بغیر کسی رکاوٹ کے آگے بڑھ گیا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں رضا عارف نے کہا کہ دنیا کو جارح اور محافظ کے درمیان واضح فرق کو سمجھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایران صرف اپنے قانونی حقوق اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے کھڑا ہے اور اس کا مقصد کسی بھی قسم کی جارحیت نہیں بلکہ اپنے دفاع کو یقینی بنانا ہے۔

موہوزی کینروگابا نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو نہ صرف سفارتی تعلقات منقطع کر دیے جائیں گے بلکہ ترک ایئرلائنز پر بھی پابندی عائد کی جا سکتی ہے۔ ان کا یہ بیان سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے، جہاں ماہرین اسے غیر سنجیدہ اور سفارتی اصولوں کے منافی قرار دے رہے ہیں۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ نے ایک باضابطہ بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب ایران اپنے حملوں کی مکمل ذمہ داری قبول کرے، نقصانات کی تلافی کرے اور سمندری سلامتی کو مکمل طور پر بحال کرے۔

اطلاعات کے مطابق ایران نے حالیہ فضائی جھڑپ کے دوران امریکہ کے دو جنگی طیارے ایف 15 ای اور اے 10 کو مار گرایا تھا۔ اس کارروائی میں ایف 15 ای طیارے کے دو عملے کے ارکان میں سے ایک کو پہلے ہی امریکی اسپیشل فورسز نے ریسکیو کر لیا تھا، جبکہ دوسرا اہلکار لاپتہ ہو گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق روس مکمل جنگ بندی کے بجائے محدود مدت کے لیے سیزفائر چاہتا ہے، تاکہ انخلا کے عمل کو بغیر کسی رکاوٹ کے مکمل کیا جا سکے۔ بتایا جا رہا ہے کہ بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ میں 400 سے 700 کے درمیان روسی کارکن کام کر رہے تھے، جن میں سے کئی افراد کو پہلے ہی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے، جبکہ باقی عملے کو مرحلہ وار نکالنے کی تیاری جاری ہے۔

کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا کہ برطانیہ اس ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ساتھ ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرے گا، جس میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور عالمی تجارت کو معمول پر لانے کے طریقوں پر غور کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ سمندری راستہ عالمی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور اس کی بندش سے دنیا بھر میں توانائی اور تجارتی نظام متاثر ہو رہا ہے۔

ایران نے امریکی صدر کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔ الجزیرہ کے مطابق ایرانی حکام نے کہا ہے کہ تہران نے کسی بھی سطح پر جنگ بندی کی درخواست نہیں کی۔ ایرانی حکام کے مطابق امریکہ کے یہ بیانات سیاسی دباؤ بڑھانے کی کوشش ہیں۔