Bharat Express DD Free Dish

Women Reservation Bill 2023

پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کے دوران خواتین ریزرویشن بل پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ مجوزہ حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے عمل میں کسی بھی ریاست یا علاقے کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں کیا جائے گا۔

اکھلیش یادو نے کہا کہ خواتین ریزرویشن کی آڑ میں حلقہ بندی (ڈی لمیٹیشن) کے ذریعے انتخابی نقشہ بدلنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا اس بل کے ذریعے واقعی تمام طبقات کی خواتین کو فائدہ ہوگا، خاص طور پر مسلم اور او بی سی خواتین کو۔ انہوں نے کہا کہ اگر خواتین کو ریزرویشن دینا ہے تو پارٹیوں کو چاہیے کہ وہ خود نشستیں مختص کریں، نہ کہ علاقوں کی بنیاد پر تبدیلی کی جائے۔

ایوان میں خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے کہا کہ اگر اپوزیشن اس بل کی مخالفت کرتی ہے تو اس سے انہیں سیاسی فائدہ ہوگا، لیکن اگر وہ اس کی حمایت کرتی ہے تو وہ خود اپوزیشن کو اس کا کریڈٹ دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ذاتی طور پر کسی قسم کا کریڈٹ نہیں چاہیے۔

ستمبر2023 میں خصوصی سیشن کے دوران پارلیمنٹ میں خواتین ریزرویشن بل منظور ہونے کے بعد بی جے پی کی ریلی، ”شریتری شکتی مودککوپم (مودی کے ساتھ خواتین کی طاقت) مہیلا سنگمم“ کو وزیراعظم کے استقبال کے طور پرپیش کیا جا رہا ہے۔

رامائن اور مہابھارت میں سیتا ماتا، دروپدی اور کنتی جیسی مضبوط اور بااثر خواتین کی عکاسی کی گئی ہے، جنہوں نے ان مہاکاوی کہانیوں کی داستانوں اور واقعات کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا۔ خاندان کی ترتیب میں بھی خواتین کا رول بہت اہم رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے  وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے کہا، "ایسے وقت میں جب مشرقی-مغربی پولرائزیشن بہت تیز ہے اور شمال-جنوب کی تقسیم اتنی گہری ہے کہ  نئی دہلی سمٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سفارت کاری اور بات چیت ہی واحد موثر حل ہے۔

بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل کے لئے مختص سیٹوں میں سے تقریباً ایک تہائی سیٹیں خواتین کے لئے الگ رکھی جائیں گی۔

Rahul Gandhi On Nari Shakti Vandan Act: کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے جمعہ کے روز پریس کانفرنس کے ذریعہ خواتین ریزرویشن بل (ناری شکتی وندن ایکٹ) سے متعلق مرکزی حکومت کو گھیرا۔

اس بل کی منظوری اوراس کے نفاذ کے بعد خواتین کے لئے 33 فیصد سیٹیں مختص ہوجائیں گی۔ اس سے قبل، اس بل پرپورے دن بحث ہونے کے بعد برسراقتدار بی جے پی اوراس کی اتحادی جماعتوں کے علاوہ اپوزیشن کانگریس اوراس کی اتحادی سماجوادی پارٹی، ترنمول کانگریس سبھوں نے حمایت کی۔

خواتین ریزرویشن بل لوک سبھا کےبعد راجیہ سبھا میں بھی دلچسپ بحث ہوئی ۔حکمراں اور اپوزیشن کی طرف سے مسلسل اس بل کے حق میں بیانات دئے گئے ،۔اپوزیشن کی جانب سے کچھ اعتراضات بھی درج کرائے گئے ،اس بیچ خبر یہ ہے کہ راجیہ سبھا میں جیسے ہی اس بل کو منظوری ملے گی اس کے فوراً بعد خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی جائیں گی۔