Bharat Express DD Free Dish

West Indies

ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم نے ڈھاکہ میں وہ کام کر دکھایا ہے جو ابھی تک کسی بھی آئی سی سی کی مکمل رکن ٹیم نے نہیں کیا تھا۔ اس نے یہ بڑا کارنامہ بنگلہ دیش کے خلاف دوسرے ون ڈے میں انجام دیا ہے۔

کلدیپ یادو نے ویسٹ انڈیز کے خلاف دہلی کے ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں دوسرے ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں پانچ وکٹ لیے۔ اس کے ساتھ کلدیپ ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ پانچ وکٹ لینے والے بائیں ہاتھ کے کلائی کے اسپنروں میں مشترکہ ٹاپ پوزیشن پر پہنچ گئے ہیں۔

2015 میں اپنا ون ڈے ڈیبیو کرنے والے بابر اعظم نے 131 ون ڈے میچوں کی 128 اننگز میں 19 سنچریاں اور 37 نصف سنچریاں بنا کر 6,235 رنز بنائے ہیں۔ وہ سعید انور کے بعد پاکستان کے لیے سب سے زیادہ ون ڈے رنز بنانے والے بلے باز بھی ہیں۔

آل راؤنڈر آندرے رسل جب آخری بار میرون جرسی میں میدان میں آئے تو انہیں ’گارڈ آف آنر‘ دیا گیا۔ آندرے رسل نے 86 ٹی ٹوئنٹی میچوں میں 1122 رنز بنائے۔ اس فارمیٹ میں ان کے نام 61 وکٹیں ہیں۔ اس کے علاوہ آندرے رسل نے 56 ون ڈے میچوں میں 1,034 رنز بنائے اور 70 وکٹیں لیں۔ رسل نے اپنے ٹیسٹ کیریئر میں صرف ایک میچ کھیلا۔

نکولس پورن نے 2014 کے انڈر 19 مینز کرکٹ ورلڈ کپ میں ویسٹ انڈیز کی نمائندگی کی، جس کے دو سال بعد انہیں T20I فارمیٹ میں سینئر ٹیم کے لیے بین الاقوامی سطح پر ڈیبیو کرنے کا موقع ملا۔ اس کے بعد پورن نے 2018 میں ون ڈے فارمیٹ میں ڈیبیو کیا، بہترین کارکردگی کو دیکھتے ہوئے بائیں ہاتھ کے اس کھلاڑی کو ورلڈ کپ 2019 کے لیے ٹیم میں موقع ملا۔

پاکستان کی جانب سے بہترین گیندبازی کا مظاہرہ کیا گیا جس میں نعمان علی نے غضب کی گیند بازی کرتے ہوئے اپنے نام 6 وکٹ درج کئے۔  وہیں پاکستان  کی بلے بازی ناکام رہی اور پاکستان اپنی پہلی اننگ میں صرف 154 رنز ہی بنا سکی۔

بنگلہ دیش نے ویسٹ انڈیزکوتیسرے ٹی-20 میں 80 رنوں سے ہراتے ہوئے سیریزمیں کلین سوئپ کیا۔ اسی کے ساتھ اس نے پہلی بارایک بڑا کارنامہ بھی انجام دیا۔ ویسٹ انڈیزکے خلاف کلین سوئپ میں بنگلہ دیش کے ہیرو ذاکرعلی اورمہدی حسن رہے۔

میلکم مارشل نے 1977-78 میں بارباڈوس کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ میں ڈیبیو کیا اور اپنے پہلے میچ میں جمیکا کے خلاف 77 رنز دے کر 6 وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔

انگلینڈ کی جیت کے ہیرو تیز گیند باز گس اٹکنسن رہے۔ اپنا ڈیبیو ٹیسٹ میچ کھیلنے آئے اٹکنسن نے پہلی اننگ میں سات اور دوسری اننگ میں پانچ وکٹیں حاصل کیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنا آخری میچ کھیلنے والے جیمز اینڈرسن نے مجموعی طور پر 4 وکٹیں حاصل کیں۔

ویسٹ انڈیز نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا جو ان کے لیے بالکل درست ثابت ہوا۔ یہ ویسٹ انڈیز کی دوسری فتح تھی۔ ٹیم نے پہلا میچ پاپوا نیو گنی کے خلاف جیتا تھا۔ وہیں یوگنڈا کے خلاف ویسٹ انڈیز نے شروع سے آخر تک غلبہ برقرار رکھا اور بڑی فتح درج کی۔