Bharat Express DD Free Dish

West Bengal Politics

مغربی بنگال کے ضلع ساؤتھ 24 پرگنہ کے باسنتی اسمبلی حلقے میں انتخابی مہم کے دوران بی جے پی اور ٹی ایم سی کے حامیوں کے درمیان شدید جھڑپ ہوئی، جس میں کم از کم 20 افراد زخمی ہوئے۔ مقامی پولیس کے مطابق، جھڑپ کے بعد 8 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے مغربی بنگال کی سیاست میں بڑا انتخابی اعلان کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس پر سخت تنقید کی ہے۔ اویسی نے الزام لگایا کہ ممتا بنرجی نے مسلمانوں کے ووٹ تو حاصل کیے، لیکن ان کی فلاح و بہبود کے لیے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا اور ان کی سیاست ہی کی وجہ سے بی جے پی کو ریاست میں مضبوط ہونے کا موقع ملا۔

مغربی بنگال میں عید الفطرکے جشن کے درمیان سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ ہوا ہے۔ شوبھیندو ادھیکاری نے ممتا بنرجی پر خوشنودی کی سیاست کا الزام لگایا، جس پرابھیشیک بنرجی نے سماجی ہم آہنگی اور بھائی چارے کا حوالہ دیا۔ شوبھندوادھیکاری نے ممتا بنرجی کو40,000 ووٹوں سے شکست دینے کا دعویٰ کیا۔

ای ڈی کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ چھاپے غیر قانونی سرگرمیوں سے متعلق شواہد اکٹھا کرنے اور مالی لین دین کا پتہ لگانے کے لیے کیے گئے ہیں۔ اس دوران دستاویزات، ڈیجیٹل آلات اور دیگر مواد کی جانچ بھی کی جائے گی تاکہ کال سینٹرز کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں اور دھوکہ دہی سے متعلق معاملات کا پتا چل سکے۔

مغربی بنگال میں ہونے والے آئندہ اسمبلی انتخابات کے لیے آج الیکشن کمیشن انتخابات کی تاریخوں کا اعلان کرے گا۔ چیف الیکشن کمشنر آج شام 4 بجے اس سلسلے میں پریس کانفرنس کریں گے۔ اس بار چار ریاستوں اور ایک مرکزی زیر انتظام علاقے میں انتخابات منعقد ہونے والے ہیں۔

اپنے خطاب کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ بنگال میں مبینہ طور پر ”مہاجنگل راج“ قائم کرنے والوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ریاست میں قانون کی حکمرانی بحال ہوگی اور جو بھی قانون توڑے گا یا ظلم کرے گا اسے کسی بھی صورت میں بخشا نہیں جائے گا۔

جادوپور اسمبلی سیٹ کا قیام 1967 میں عمل میں آیا تھا اور طویل عرصے تک اسے کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا (مارکسسٹ) کا مضبوط قلعہ سمجھا جاتا رہا۔ اب تک یہاں 1983 کے ضمنی انتخاب سمیت کل 15 انتخابات ہو چکے ہیں،

وندے ماترم کے مسئلے پر امت شاہ کا یہ سخت بیان نہ صرف ترنمول کانگریس کے لیے ایک بڑا سیاسی چیلنج بن گیا ہے بلکہ آنے والے دنوں میں مغربی بنگال کی سیاست میں نئے تصادم اور انتخابی گہما گہمی کا اشارہ بھی ہے۔ 2026 کے انتخابات کے قریب آتے ہی ریاست میں سیاسی درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

امت شاہ نے کہا کہ ممتا بنرجی چاہے جتنا این آر سی کی مخالفت کر لیں لیکن دراندازوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جائیں گے۔ دراندازی، سرحدی سلامتی اور بدعنوانی پر ممتا حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کیا، بی جے پی حکومت بنانے کی اپیل۔

وزیراعظم نے کہا کہ مرکزی حکومت نے ماہی گیروں کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارم تیار کیا ہے، لیکن بنگال میں اس پر عمل درآمد رک گیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹی ایم سی حکومت مرکزی اسکیموں میں تعاون نہیں کر رہی۔