Bharat Express DD Free Dish

Volodymyr Zelenskyy

امریکہ کی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوششوں کے درمیان روسی صدر ولادیمیر پوتن نے جمعہ کو یوکرین میں ایک ’’عبوری انتظامیہ‘‘ کے قیام کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی فوج یوکرین کے فوجیوں کو ’’ختم‘‘ کر دے گی۔

زیلینسکی نے کہا، 'میں چاہتا ہوں کہ ہمارے تمام شراکت دار یہ سمجھیں کہ پوتن کیا منصوبہ بندی کر رہے ہیں، وہ کس چیز کی تیاری کر رہے ہیں اور وہ کس چیز کو نظر انداز کریں گے۔'

ٹرمپ پہلے یہ دعویٰ کر چکے ہیں کہ اگر وہ صدر ہوتے تو یوکرین کی جنگ کبھی شروع نہ ہوتی۔ انہوں نے یوکرین کی جنگ کو فوری طور پر ختم کرنے کا منصوبہ بنانے کا دعویٰ کیا تھا۔ اگر وہ صدر منتخب ہوئے تو وہ جلد جنگ ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔

خلا سے حاصل تصاویر کیف کے ٹول باکس میں ایک اہم ہتھیار رہی ہیں۔ ان کا استعمال جاسوسی ڈرون مشنوں کی منصوبہ بندی کرنے، ٹینکوں اور گاڑیوں کے روسی ذخائر کو تلاش کرنے اور روس کے زیر کنٹرول علاقوں میں حملوں کے نتائج کا جائزہ لینے کے لیے کیا جاتا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کو تکلیف نہیں پہنچانا چاہتے، میں اس پر غور کر رہا ہوں اور کچھ لوگ اسے مناسب سمجھتے ہیں، کچھ لوگ ایسا نہیں سمجھتے اور میں اس بارے میں جلد فیصلہ کروں گا۔ ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کی عوام نے بہت نقصان اٹھایا ہے۔

روس نے فرانس اور برطانیہ کی امن تجویزکویوکرینی فوج کو بچانے کی کوشش بتایا اوراسے خارج کردیا۔ وہیں زیلنسکی نے کہا کہ جنگ کا خاتمہ ابھی دور ہے اور امریکی حمایت جاری رہنے کی امید ظاہرکی۔

ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد بھی ایسے بیانات آتے رہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اب یوکرین کو مزید مدد دینے کے حق میں نہیں ہے۔

اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے دوران برطانوی وزیراعظم نے ایک بار پھر یوکرین کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ برطانیہ ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑا رہے گا۔

زیلینسکی نے کہا کہ "میں روس کے حوالے سے یوکرین کی حکمت عملی کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ روسی ہمارے دشمن ہیں، وہ ہمیں مار رہے ہیں اور یہی وہ حقیقت ہے جس کا ہم سامنا کر رہے ہیں۔

جمعے کے روز بات چیت کے دوران یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بڑے تصادم کے بعد زیلنسکی نے ٹرمپ سے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔