Bharat Express DD Free Dish

Vande Mataram

بیرک پور(مغربی بنگال): وزیراعظم نریندر مودی نے پیر کے روز کہا کہ ’’وندے ماترم‘‘ نے ہندوستان کی آزادی کی جدوجہد میں ایک مضبوط اور رہنما کردار ادا کیا تھا اور اب وقت آگیا ہے کہ اسے 21ویں صدی میں مغربی بنگال کی تعمیرِ نو اور ہمہ جہت ترقی کے لیے ایک منتر کے طور پر …

کانگریس کی دو خاتون کونسلروں کے خلاف معاملہ درج ہوا ہے۔ دونوں کونسلروں نے وندے ماترم گانے سے انکارکردیا تھا۔ پولیس نے جانچ کے بعد دونوں کونسلروں روبینہ اقبال خان اور فوزیہ شیخ علیم کے خلاف دفعہ 196/1 کے تحت معاملہ درج کیا ہے۔

اندریش کمار نے کہا، “ملک بھر میں لاکھوں مسلمان فخر کے ساتھ وندے ماترم گاتے ہیں اور اسے اپنی بھارتی شناخت کا لازمی حصہ سمجھتے ہیں۔ اس کی مخالفت تنگ نظر ووٹ بینک سیاست سے متاثر ہے۔ قومی نغمہ بھارت کی ثقافت، تاریخ اور جدوجہدِ آزادی کی روح کی عکاسی کرتا ہے۔

سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی نے کہا کہ سب کی اپنی اپنی آستھا ہے۔ اگر میں کھڑے ہو کر قرآن شریف کی کوئی سورہ پڑھوں اور کسی ایسے بھائی سے، جو مسلمان نہ ہو، اسے پڑھنے کے لیے کہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ یہ غلط ہوگا۔

اس حکم نامے کی ایک اہم بات یہ ہے کہ اب تک عوامی سطح پر جو وندے ماترم گایا جاتا رہا ہے، اسے نامکمل قرار دیا گیا ہے۔ نئی ہدایات کے مطابق وہ مکمل وندے ماترم پیش کیا جائے گا، جس میں وہ اضافی سطریں بھی شامل ہیں جو بنکم چندر چٹرجی نے ابتدا میں تحریر کی تھیں۔

وندے ماترم سے متعلق تنازع کی جڑیں آزادی سے قبل کے دور تک جاتی ہیں۔ 1937 کے کانگریس اجلاس میں وندے ماترم کے چند اشعار کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا تھا، جسے لے کر بی جے پی کا دعویٰ ہے کہ اسی پالیسی نے بعد میں تقسیمِ ہند کی بنیاد رکھی۔ دوسری جانب کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی تاریخ کو توڑ مروڑ کر پیش کر رہی ہے۔

وزیراعظم مودی کو ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد علی کی جانب سے دیے گئے ضیافتی عشائیے میں ’وندے ماترم‘ کی پُرسوز پیشکش کے ساتھ نہایت پُرخلوص اور دل کو چھو لینے والا استقبال حاصل ہوا۔

جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ کا بھی یہ فیصلہ ہے کہ کسی بھی شہری کوقومی ترانہ یا کوئی ایسا گیت گانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا، جو اس کے مذہبی عقیدے کے خلاف ہو۔ انہوں نے کہا کہ وطن سے محبت الگ چیز ہے اور اس کی عبادت دوسری چیز۔ مسلمانوں کو اس ملک سے کتنی محبت ہے اس کے لئے ان کو کسی کے سرٹیفیکیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔

راجیہ سبھا میں ’وندے ماترم‘ پر جاری بحث کے دوران ایک بار پھر سیاسی گرما گرم ماحول دیکھنے کو ملا۔ ایوان میں اپوزیشن کے لیڈر اور کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے حکومت اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید تنقید کی۔ کھڑگے نے کہا کہ وہ گزشتہ 60 سال سے ’وندے ماترم‘ گا رہے ہیں، جبکہ جو لوگ آج اس کا سب سے زیادہ چرچا کر رہے ہیں، وہ کبھی اسی کے خلاف تھے۔

لوک سبھا کے سرمائی اجلاس میں پیر کے روز قومی ترانے ’وندے ماترم‘ کے 150 سال مکمل ہونے کے موقع پر خصوصی بحث ہوئی۔ اس دوران سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بی جے پی کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ بی جے پی اُن عظیم آدمیوں اور نظریات کو بھی اپنا لینے کی کوشش کر رہی ہے جو دراصل اس کے نہیں ہیں۔