Bharat Express DD Free Dish

US Tariffs

ایس پی صدر نے کہا کہ اس وقت یوپی حکومت کی اس اسکیم کا امتحان ہے کہ بھدوہی، مراد آباد یا کانپور کے کاروبار کو یا یوپی میں دوسری ریاستوں کے کاروبار ہیں جو ٹیرف کی وجہ سے مشکل میں ہیں، ان کی مدد کون کرے گا؟ یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے۔

وزیرِاعظم مودی نے اس بات پر فخر کا اظہار کیا کہ بھارت آج دودھ، دال اور جوٹ کی پیداوار میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے، جب کہ چاول، گندم، کپاس، پھل اور سبزیاں پیدا کرنے میں دوسرا مقام رکھتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز ہندوستان سے درآمد ہونے والی اشیاء پر اضافی 25 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا تھا۔ یہ فیصلہ پہلے سے لاگو 25 فیصد ٹیرف کے علاوہ ہے جو 20 جولائی سے لاگو تھا۔ اس طرح کل ٹیرف اب 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس کی وجہ ہندوستان کی طرف سے روسی خام تیل کی مسلسل درآمد کو بتایا ہے۔

اس سے قبل اکتوبر 2024 میں پی ایم مودی اور شی جن پنگ نے روس کے شہر کازان میں برکس کانفرنس کے دوران ملاقات کی تھی۔

جب ایک صحافی نے ٹرمپ سے سوال کیا کہ چین روس سے تیل بھی خریدتا ہے تو پھر بھارت کو ہی کیوں نشانہ بنایا گیا، ٹرمپ نے واضح اشارہ دیا کہ ہم بھارت پر سیکنڈری سینکشن لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ ایسا کئی دوسرے ممالک پر بھی لاگو کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک چین بھئی ہو سکتا ہے۔

بھارتی حکومت 1 اگست کی ڈیڈلائن سے پہلے معاہدے کی کوشش کر رہی ہے۔ راجیش اگروال کی قیادت میں بھارتی وفد نے جولائی میں واشنگٹن میں پانچ دور کی بات چیت مکمل کی، جو چار دن تک جاری رہی، مگر کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی

مرکزی وزیر نے کہاکہ روسی خام تیل کی قیمت ہمیشہ 60 ڈالرفی بیرل کی حد کے اندر رہی ہے، لیکن اس پر کبھی پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔ ہندوستان پابندیوں کے تحت کسی بھی ملک سے خام تیل نہ خریدنے کے اپنے موقف پر قائم ہے۔

ٹرمپ نے 2 اپریل کو امریکہ کے بیشتر تجارتی شراکت داروں پر 10 فیصد بیس لائن کے ساتھ بڑے پیمانے پر ٹیرف عائد کی تھی اور ان ممالک پر اونچی شرحیں عائد کی گئی جن کے ساتھ امریکہ کا تجارتی خسارہ سب سے زیادہ ہے۔ چین اور یورپی یونین کے ارکان جیسے ممالک پر زیادہ شرحیں عائد کی گئیں۔

صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری ٹیرف وار کے درمیان سامنے آیا ہے۔ 10 اپریل کو چین نے اعلان کیا کہ اس نے چینی مارکیٹ میں ہالی ووڈ فلموں کی ریلیز کو قدرے کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا، "نتیجہ یہ ہو گا کہ ہمارا ملک پہلے سے بڑا، بہتر اور مضبوط ہو جائے گا۔ ہم امریکہ کو پھر سے عظیم بنائیں گے