Bharat Express DD Free Dish

PM Modi to Visit China After 7 Years Amid US Tariff Row: امریکہ کے ساتھ ٹیرف جنگ کے درمیان پی ایم مودی 7 سال بعد کریں گے چین کا دورہ، ایس سی او اجلاس میں شرکت متوقع

اس سے قبل اکتوبر 2024 میں پی ایم مودی اور شی جن پنگ نے روس کے شہر کازان میں برکس کانفرنس کے دوران ملاقات کی تھی۔

(فائل فوٹو)

وزیر اعظم نریندر مودی اس ماہ کے آخر میں چین کا دورہ کر سکتے ہیں۔ یہ دورہ چین کے شہر تیانجن میں 31 اگست سے یکم ستمبر تک منعقد ہونے والے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے 25 ویں سربراہان مملکت کے اجلاس کے لیے ہو گا۔ خاص بات یہ ہے کہ وادی گلوان میں 2020 کے جھڑپ کے بعد پی ایم مودی کا چین کا یہ پہلا دورہ ہوگا، جس سے ہندوستان اور چین کے تعلقات میں ایک نئی شروعات ہونے کی امید ہے۔

مودی اور شی جن پنگ نے 2024 میں کی تھی ملاقات

اس سے قبل اکتوبر 2024 میں پی ایم مودی اور شی جن پنگ نے روس کے شہر کازان میں برکس کانفرنس کے دوران ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے بعد دونوں ممالک نے سرحدی کشیدگی کو کم کرنے کی جانب قدم اٹھایا۔ اب دونوں لیڈران کے درمیان شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس میں دوبارہ آمنے سامنے بات چیت کا امکان ہے۔

SCO کیا ہے؟

واضح رہے کہ ایس سی او یعنی شنگھائی تعاون تنظیم 2001 میں چین کے شہر شنگھائی میں قائم ہوئی۔ یہ تنظیم علاقائی سلامتی، اقتصادی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف مشترکہ لڑائی جیسے مسائل پر کام کرتی ہے۔ اس میں بھارت، چین، روس، پاکستان، ایران، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان جیسے ممالک شامل ہیں۔ یہ ممالک دنیا کی آبادی کی 40فیصد اور جی ڈی پی کی 20 فیصد نمائندگی کرتے ہیں۔

امریکہ اور چین کے درمیان ٹیرف تناؤ

پی ایم مودی کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان ٹیرف کو لے کر تناؤ ہے اور ہندوستان متوازن خارجہ پالیسی اپناتے ہوئے دونوں فریقوں کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس سے قبل وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی ایس سی او اجلاس میں شرکت کی تھی، لیکن دہشت گردی سے متعلق دستاویز پر دستخط کرنے سے انکار کردیا تھا کیوں کہ اس میں ہندوستان کے پہلگام پر حملے کا ذکر نہیں تھا۔

بھارت ایکسپریس اردو



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read