Bharat Express DD Free Dish

US-Israel vs Iran War

ایران کے کئی شہروں میں 4 سے 9 جولائی تک آخری رسوم کی تقریب ہونی والی ہے، جس میں لاکھوں لوگوں اورکئی وی آئی پی غیرملکی مہمانوں کے آنے کی بھی امید ہے۔ ایران نے وزیراعظم نریندرمودی کوآیت اللہ علی خامنہ ای کے سرکاری آخری رسومات میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

وہیں، امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو پھر بڑی دھمکی دی ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگرایران نے جلد ہی نیوکلیئرمعاہدہ پربہترتجویزنہیں دی تو امریکہ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا حملہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ گھڑی چل رہی ہے اورایران کے پاس زیادہ وقت نہیں بچا ہے۔ انہوں نے امریکی میڈیا ایکسیو سے بات چیت میں کہا کہ امریکہ ابھی بھی جنگ ختم کرنے کے لئے معاہدہ چاہتا ہے۔

وزارت خارجہ نے کہا کہ جنگ بندی سے مغربی ایشیا میں دیرپا امن قائم ہونے کی امید ہے۔ دریں اثنا، ہندوستان نے ایران میں پھنسے ہوئے اپنے شہریوں کومشورہ دیا ہے کہ وہ فوری طور پر ملک چھوڑنے کے لئے اپنے سفارت خانہ سے رابطہ کریں۔

امریکہ اورایران کے درمیان 28 فروری سے جاری جنگ رک گئی ہے۔ دونوں ملک سیزفائر پر راضی ہوگئے ہیں۔ اس قدم سے پوری دنیا نے راحت کی سانس لی۔ ابنائے ہرمز سے اب جہاز بغیر روک ٹوک کے نکل سکیں گے۔ حالانکہ سیزفائر سے امریکہ میں بیٹھے ایک شخص کو صدمہ لگا ہے۔

امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ ایران کوگھٹنے ٹیکنے مجبورکرنے کی ہرممکن کوشش کررہے ہیں، لیکن ایران پوری مضبوطی کے ساتھ مقابلہ کررہا ہے۔ ٹرمپ ایک طرف معاہدے کی بات کر رہے ہیں تو دوسری طرف ایران پردباؤ ڈالنے کی بھی پوری کوشش کررہے ہیں اوراس دوران انہوں نے دھمکیاں بھی دی ہیں۔

ایران نے حال ہی میں امریکہ کے ایک ایف-35 فائٹرجیٹ کوٹارگیٹ کا دعویٰ کیا تھا، جس کی ایمرجنسی لینڈنگ ہوئی تھی۔ اب آئی آرجی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایک ایف-16 کو ٹارگیٹ کیا گیا ہے۔ یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں، جب 28 فروری کوایران پرامریکہ اوراسرائیل نے مشترکہ طورپرحملہ کردیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون ایک تیل کے ٹینکر سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے میں آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایمرجنسی سروسز کو فوری طور پر متحرک کر دیا گیا۔ فائر بریگیڈ اور دیگر امدادی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں اور مختصر وقت میں آگ پر قابو پا لیا گیا۔

امریکی صدر کی اپیل کے باوجود اب تک کسی بھی ملک نے براہ راست فوجی مدد فراہم کرنے کا اعلان نہیں کیا ہے۔ آسٹریلیا نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں اپنی بحریہ کا کوئی جہاز نہیں بھیجے گا۔