Bharat Express DD Free Dish

United Arab Emirates

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان پیر کو مختصر مگر انتہائی اہم دورے پر بھارت پہنچنے والے ہیں۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق صدر شیخ محمد صرف ڈیڑھ گھنٹے کے لیے بھارت میں قیام کریں گے اور اس دوران وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کریں گے۔

ریاستہائے متحدہ میں داخل ہونے والے ہندوستانی سامان پر 50 فیصد کا بھاری ٹیرف، جو 27 اگست سے نافذ ہوا ہے، 48 بلین ڈالر سے زیادہ کی برآمدات کو متاثر کرے گا۔ جن شعبوں پر ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے عائد کردہ اعلیٰ درآمدی محصولات کا نقصان ہو گا ان میں ٹیکسٹائل/کپڑے، جواہرات اور زیورات، جھینگا، چمڑے اور جوتے، جانوروں کی مصنوعات، کیمیکلز، اور الیکٹریکل اور مکینیکل مشینری شامل ہیں۔

اماراتی کابینہ نے مصنوعی ذہانت کے سلیبس کو متعارف کرانے کے لیے اس کی منظوری دے دی ہے۔ یہ سلیبس 12ویں جماعت تک تمام کلاسز کو درجہ بدرجہ پڑھایا جائے گا۔ جس سے اگلے تعلیمی سال کے دوران سرکاری تعلیمی اداروں میں یہ اہم مضمون شامل کر لیا جائے گا۔

انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل (آئی سی سی) نے 29-2025 تک کے لیے 16 خواتین ٹیموں کو ون ڈے کا درجہ دیا ہے۔ اس میں 5 ایسوسی ایٹ ممبران یو اے ای، تھائی لینڈ، نیدر لینڈ، اسکاٹ لینڈ اور پاپوا نیو گنی شامل ہیں۔

متحدہ عرب امارات (یواے ای) میں 25 ہندوستانیوں کو موت کی سزا سنائی گئی ہے۔ مرکزی وزیرمملکت کیرتی وردھن سنگھ نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ غیرملکی اضلاع میں 10,152 ہندوستانی قید ہیں، جن میں سے کئی انڈرٹرائل ہیں۔ سعودی عرب، ملیشیا، کویت، قطر، امریکہ اوریمن میں بھی کچھ ہندوستان کو سزائے موت ملی ہے۔

مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے بدھ کے روز اس خیال کو مسترد کر دیا کہ مصر غزہ کے لوگوں بے گھر ہونے میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مصری اپنی ناراضگی کا اظہار کرنے کے لیے سڑکوں پر نکلیں گے۔

پاکستان کے تین اسٹیڈیم کا کام پورا نہیں ہوسکا ہے۔ آئی سی سی چمپئنزٹرافی کے لئے پاکستان کے تین اسٹیڈیم کا تعمیری کام اگست 2024 میں شروع ہوا تھا، اسے 31 دسمبر تک پورا کرلینا تھا۔

مہاراشٹر، گجرات، کرناٹک، دہلی، تمل ناڈو، ہریانہ اور تلنگانہ مالی سال 2024-25 کی پہلی ششماہی میں ایف ڈی آئی حاصل کرنے والی سرفہرست ریاستوں میں شامل تھے۔

اس سال کے آغاز سے دبئی کے ٹریفک قانون کے تحت بغیر اجازت سڑک عبور کرنے یا ٹریفک سگنل توڑنے پر 400 یو اے ای درہم جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔

مرکزی حکومت نے 2 ہزار ٹن سفید پیاز کی برآمد کو بھی منظوری دی ہے۔ اس سفید پیاز خاص طور پر برآمد کے لیے  ہی اگائی جاتی ہے۔ یہ مغربی ایشیا اور یورپ کی منڈیوں میں برآمد کیا جاتا ہے۔