Bharat Express DD Free Dish

Uddhav Thackeray

مرکز پر حملہ کرتے ہوئے ٹھاکرے نے کہا کہ مجھے ان سے صرف اتنا کہنا ہے کہ ہم نامردوں کی اولاد نہیں ہیں۔ اگر آپ ای ڈی ، سی بی آئی کی طاقت دکھانا چاہتے ہیں تو منی پور جا کر دکھائیں۔ انہوں نے کہا کہ سنا ہے مودی جی امریکہ جا رہے ہیں۔ ارے تم منی پور جا کر دکھاؤ۔ امریکہ جا سکتے ہیں، لیکن منی پور نہیں جائیں گے۔

Maharashtra Politics: شیو سینا میں دو گروپ میں منقسم ہونے کے وقت منیشا کائندے نے ادھو ٹھاکرے کا ساتھ نہیں چھوڑا تھا، لیکن اب انہوں نے ایکناتھ شندے کے ساتھ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔

شیو سینا (یو بی ٹی) لیڈر پرینکا چترویدی نے ٹویٹ کیا، ’’وہ رکن پارلیمنٹ نہیں ہیں۔ وہ وزیر نہیں ہیں۔ وہ وزیراعظم نہیں ہیں۔ نہ ہی اپوزیشن پارٹی کا صدر ہے۔ وہ ایک شہری ہے اور اس ٹویٹ کے مطابق وہ اب بھی ڈور کھینچ رہا ہے۔ کیا یہ وزیراعظم اور حکومت کی ناکامی نہیں؟

راجیہ سبھا کا رکن پارلیمنٹ ونائک راؤت نے دعویٰ کیا کہ مہاراشٹر کی شندے حکومت جلد ہی گرنے والی ہے کیونکہ شندے کے 22 اراکین اسمبلی اور 9 اراکین پارلیمنٹ ان سے ناراض چل رہے ہیں اور ادھو کیمپ میں واپسی کرسکتے ہیں۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مہاراشٹر کی سیاست میں ایک بار پھر ہلچل شروع ہوگئی ہے۔ جہاں شیو سینا ادھو بالا صاحب ٹھاکرے کے رہنما ادھو ٹھاکرے نے اخلاقی بنیادوں پر سی ایم ایکناتھ شندے سے استعفیٰ کی ماانگ کی گئی ہے

این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے کہا کہ آج ہماری ملاقات اچھی رہی۔ آج ملک کا ماحول دیکھنے کے بعد ہمیں ملک کی جمہوریت کو بچانے کے لیے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں۔

Maharashtra Politics: سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ ”گوگاوالے (شندے گروپ) کو شیو سینا پارٹی کے چیف وہپ کے طور پر تقرری کرنے کا اسپیکر کا فیصلہ غیرقانونی تھا۔“

Supreme Court: چیف جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ کی صدارت میں سپریم کورٹ کی 5 اراکین والی آئینی بینچ نے گزشتہ سال مہاراشٹر میں ہوئے سیاسی بحران سے متعلق آج (11 مئی) اہم فیصلہ سنایا ہے۔

Maharashtra Political Crisis: سپریم کورٹ کو ادھو ٹھاکرے گروپ کی اس عرضی پر فیصلہ دینا ہے، جس میں شندے گروپ کے 16 اراکین اسمبلی کو نا اہل ٹھہرانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Maharashtra Politics: ایکناتھ شندے گروپ نے شیو سینا سے بغاوت کرکے مہاراشٹر کی سیاست میں بھونچال لا دیا تھا۔ مہاراشٹر کے اس اقتدار کے جدوجہد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد آسکتا ہے۔