Bharat Express DD Free Dish

Trump on Tariff

امریکہ ایک مرتبہ پھر روس کے خلاف سخت معاشی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری میں ہے، جس کے اثرات بھارت سمیت کئی ممالک پر پڑ سکتے ہیں۔ امریکی پارلیمنٹ میں ایک نیا بل پیش کیے جانے کا امکان ہے، جس کے تحت روس سے تیل اور دیگر توانائی وسائل خریدنے والے ممالک پر 500 فیصد تک بھاری ٹیرف لگایا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی حکومت کی جانب سے روس کے خلاف سخت پابندیوں سے متعلق ایک نئے قانون کی تیاری نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ اس قانون کی خبر سامنے آتے ہی بھارتی شیئر بازار میں زبردست گراوٹ دیکھی گئی، جہاں سینسیکس تقریباً 750 پوائنٹس تک لڑھک گیا جبکہ نفٹی میں بھی 200 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔

ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھی ہاورڈ لٹنک نے بھارت کو مذاکرات کی میز پر واپس آنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا موجودہ رویہ زیادہ دن نہیں چلے گا، بالآخر اُسے بات چیت کی میز پر آنا ہی پڑے گا۔ ابتدا میں بڑے گاہکوں سے ٹکرانا اچھا لگتا ہے،

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے۔ بھارت کی تیل کی خریداری مارکیٹ کے حالات اور 1.4 بلین لوگوں کی توانائی کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے، یہ ٹیرف نہ صرف غیر منصفانہ ہیں، بلکہ غیر معقول بھی ہیں۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے روس کے ساتھ تیل کی تجارت جاری رکھنے کی وجہ سے ہندوستان کو سزا دیتے ہوئے نئی دہلی پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔ ایم ای اے نے اس اقدام کو "غیر منصفانہ، غیر معقول اور ناقابل قبول" قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔

روس سے دوستی نبھانا ہندوستان کو مہنگا پڑگیا ہے۔ امریکی صدرنے روس سے خام تیل کی درآمد کرنے پرہندوستان پر25 فیصد ٹیرف لگا دیا۔ آپ کو بتا دیں کہ ہندوستان گزشتہ کئی سالوں سے روس سے  سب سے زیادہ خام تیل درآمد کر رہا ہے۔ ٹرمپ نے اسی وجہ سے ہندوستان پر ٹیرف کے ساتھ جرمانہ بھی لگایا ہے۔

لولا نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ دنیا کو ایک راستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہمارے تجارتی تعلقات کو ڈالر کے ذریعے منتقل نہ کرنا پڑے۔ظاہر ہے کہ ہمیں اسے احتیاط سے کرنے کے بارے میں ذمہ دار ہونا پڑے گا۔ ہمارے مرکزی بینکوں کو دوسرے ممالک کے مرکزی بینکوں کے ساتھ اس پر بات کرنی چاہیے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ چین نے پہلے سے عائد زیادہ ڈیوٹی کے اوپر 34 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کر دی ہے۔ ٹرمپ نے چین پر غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کا الزام لگایا ہے جس میں غیر قانونی سبسڈی اور کرنسی میں ہیرا پھیری شامل ہے۔

ہندوستان اور امریکہ اپنی سفارتی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مضبوط کرنے کے لیے تیار دکھائی دے رہے ہیں اور آنے والے دنوں کئی اعلیٰ امریکی عہدیدار ہندوستان کا دورہ کرنے والے ہیں۔