Bharat Express DD Free Dish

Chinese media backs India in tariff clash: روس کے بعد چین نے بھی ہندوستان کی حمایت میں دیا بیان، ٹرمپ کے ٹیرف بم پر کیا پلٹ وار

وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے۔ بھارت کی تیل کی خریداری مارکیٹ کے حالات اور 1.4 بلین لوگوں کی توانائی کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے، یہ ٹیرف نہ صرف غیر منصفانہ ہیں، بلکہ غیر معقول بھی ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روس سے تیل خریدنے پر بھارت پر 25 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کے حکم کے بعد چین نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ چین نے امریکہ پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اس اقدام کو تجارتی اقدامات کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔ جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں چینی وزارت خارجہ کے ترجمان گو جیاکون نے کہا کہ چین نے ہمیشہ ٹیرف کے غلط استعمال کی مخالفت کی ہے اور اس پر ہمارا موقف واضح اور مستقل ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے ہندوستان سے آنے والی اشیا پر 25 فیصد اضافی ڈیوٹی لگانے کا اعلان کیا ہے۔

 آپ کو بتادیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت پر کل 50 فیصد ٹیرف کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ بھارت روس سے تیل خریدنے کے معاملے میں چین کے بہت قریب ہے اور اب اس سے نمٹنے کے لیے امریکہ  دوسری پابندیوں کی طرف بڑھے گا۔ وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ جیسا کہ آپ جانتے ہیں، ہم نے روسی تیل کے لیے ہندوستان پر 50 فیصد ٹیرف لگا دیا ہے۔ روس سے تیل خریدنے میں وہ چین کے بہت قریب ہیں۔ بھارت پر پچھلا 25 فیصد ٹیرف 7 اگست سے نافذ ہو چکا ہے، جب کہ نیا 25 فیصد ٹیرف 21 دن کے بعد یعنی 27 اگست سے نافذ ہو گا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق، جب پریس کانفرنس میں ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ روس-یوکرین کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد بھارت سے ٹیرف ہٹا سکتے ہیں؟ اس پر ٹرمپ نے جواب دیا کہ فی الحال وہ (بھارت) 50 فیصد ٹیکس دیں گے، آگے کیا ہوتا ہے دیکھا جائے گا۔ جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ چین اور ترکیہ بھی روس سے تیل خرید رہے ہیں تو صرف بھارت پر ہی اتنی بڑی کارروائی کیوں؟ اس پر ٹرمپ نے کہا کہ بھارت پر ٹیرف لگائے ہوئے صرف 8 گھنٹے ہوئے ہیں، آپ کو مستقبل میں بہت کچھ نظر آئے گا، دوسرے مرحلے میں پابندیوں کا سیلاب آئے گا۔

 چین اور ترکیہ کو ریلیف، بھارت کو سزا

امریکہ نے روس سے تیل کی درآمد پر صرف بھارت پر 50 فیصد ٹیکس عائد کیا ہے جبکہ چین پر 30 فیصد اور ترکیہ پر صرف 15 فیصد ٹیرف ہے۔ بھارت نے اس امتیازی سلوک پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے ٹرمپ کے فیصلے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ افسوسناک ہے کہ امریکہ نے ایسا قدم اٹھایا، جب کہ کئی دوسرے ممالک بھی قومی مفاد میں وہی کام کر رہے ہیں جو بھارت کر رہا ہے۔ بھارت کا ردعمل کیا ہے؟ وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ہمارا موقف واضح ہے۔ بھارت کی تیل کی خریداری مارکیٹ کے حالات اور 1.4 بلین لوگوں کی توانائی کی حفاظت کو مدنظر رکھ کر کی جاتی ہے، یہ ٹیرف نہ صرف غیر منصفانہ ہیں، بلکہ غیر معقول بھی ہیں۔ بھارت اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا۔

بھارت ایکسپریس۔



بھارت ایکسپریس اردو، ہندوستان میں اردوکی بڑی نیوزویب سائٹس میں سے ایک ہے۔ آپ قومی، بین الاقوامی، علاقائی، اسپورٹس اور انٹرٹینمنٹ سے متعلق تازہ ترین خبروں اورعمدہ مواد کے لئے ہماری ویب سائٹ دیکھ سکتے ہیں۔ ویب سائٹ کی تمام خبریں فیس بک اورایکس (ٹوئٹر) پربھی شیئر کی جاتی ہیں۔ برائے مہربانی فیس بک (bharatexpressurdu@) اورایکس (bharatxpresurdu@) پرہمیں فالواورلائک کریں۔ بھارت ایکسپریس اردو یوٹیوب پربھی موجود ہے۔ آپ ہمارا یوٹیوب چینل (bharatexpressurdu@) سبسکرائب، لائک اور شیئر کرسکتے ہیں۔

Also Read